اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

ادبی افق کے لیئے لکھیئے

آپ بھی اپنی ادبی تخلیقات ادبی افق میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تحریریں ادبی افق@اردولائف۔کوم کے پتے پر ارسال کریں۔ آپ اپنی تحریریں ان پیچ پروگرام میں بھی بھیج سکتے ہیں، تاہم رومن اردو میں کوئی  تحریر قابـلِ قبول نہیں ہے۔

 ترتیب و فہرست

ادبی افق مرکزی صفحہ
مضامین
گفتگو
محفل
شعرو شاعری
افسانے

کیا آپ جانتے ہیں؟

آپ اپنی تحریر براہِ راست یونی کورڈ اردو میں ، اردو پیڈ کے ذریعے لکھ سکتے ہیں. اردو پیڈ اور اردو ای میل کی سہولت آپ کو اردو لائف کی جانب سے بلامعاوضہ پیش کی جاتی ہے۔

انٹرنیٹ پر اپنی طرز کا واحد شمارہ اب یونی کورڈ اردو میں


 شکوہ
ڈاکٹر بلند اقبال

کچھ نہیں ،بس یو نہی خیال آیا تھا اور برش کینوس پر چلتا چلا گیا ۔ رنگ پر رنگ چڑ ھنے لگا اور خالی خولی لکیریں زندگی کا مزا چکھنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں بے جان کینوس جیسے زندگی کا روپ پا نے لگا۔ ایک لکیر جو ترچھی پڑی تو اُجاڑ شاخوں پر پھول کھل گئے ، ایک لکیر جو آڑی پڑ ی تو انجان راستوں پر قدموں کے نشاں بن گئے۔ کہیں دہکتا ہوا سورج جلنے لگا اور کہیں چاند شرما نے لگا۔ وقت بھی اپنے حصے کا برش پھیر گیا اور کینوس صبح و شام کے رنگوں سے سجنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایسی تصویر بنی کہ خود برش بھی کینوس سے شرمانے لگا۔
آرٹ گیلری میںوہ چپ چاپ کھڑا ہوا سفید بالوں والا بو ڑھا آرٹسٹ پہلے تو اُس تصویر کو تکتا رہا جیسے خود کے بنائے ہوئے شہکار کو نظروں ہی نظروں میں تول رہا ہو مگر جلد ہی اُسے یوں لگا جیسے اُس کا دل کسی انجانے خیال سے بھرآیا ہو۔ کچھ ہی دیر میں اُسکی نظروں میں تصویر د ھندلانے سی لگی ۔۔اُور پھر جیسے تصویر کا ہر ایک رنگ اُس کی ذات میں جذب ہوتا چلا گیا۔۔یہی وہ چندلمحے تھے کہ جب وہ بو ڑھا آرٹسٹ اپنے آپ سے بے گانہ ہو گیا۔ ۔ تصویر اُس میں شامل ہو گئی اوروہ تصویر میں شامل ہو گیا۔
اور پھر اُس بو ڑھے آرٹسٹ کو یوں لگنے لگا جیسے کینوس پر اُس کی کھینچی ہوئی آڑی تر چھی لکیریں ، اس کی بنائی ہوئی رنگوں کی بہاریں اور زندگی کی صبح و شامیں،سب ہی اُس سے غم ناک فغائوں سے فریاد کررہی ہیں ۔۔ اُسے یوں لگا کہ جیسے وہ بلک بلک کر رو رہی ہیں اور اُس سے پوچھ رہی ہیں ۔۔
کیوں ایسی بھی کیا ضرورت تھی ۔۔؟ تم نے ہمیں بے جان رنگوں سے ایک ہستی کی شکل دے دی۔۔ تمہیں پتہ ہے نہ۔۔ یہ جو تمہارا برش رنگوں کی بہاریں لایا ہے ۔۔وہ تخلیق سے پہلے بہت سے جنموں کی آزمائشوں سے بھی گزرا ہے ۔۔وہ ہر ایک رنگ میں جل کر تم جیسے تخلیق کار کے ہاتھوں میں ا ُبھرا ہے ۔ تمہیں پتہ ہے نہ اِن ہرایک اڑی تر چھی لکیروں کے پیچھے کھوئی ہوئی رُتوں کے الم ناک فسانے بھی ہیں ۔۔تبھی تو ان اُجاڑ شاخوں میں کہیں پھول کھلے ہیں اور کہیں قدموں کے نشاں۔۔ یہ دہکتا ہوا سورج ،یہ شرماتا ہوا چاند، یہ شریر تارے ،یہ افق کی تمتماتی ہو ئی سُرخی، یہ شام کا ملگجا اند ھیرا ۔۔یہ گزرتے ہوئے وقت کی علامتیں۔۔ یہ سارے ہی رنگ تمہارے خیالوںمیں بس کر ہم گم نام لکیروں کوزندگی دے گئے ۔ ۔۔ مگر کیوں ۔۔۔ کیا محض بازار میں بیچنے کے لیے۔۔ ؟
اچانک آرٹ گیلری میں چپ چاپ کھڑا ہوا بو ڑھا آر ٹسٹ اپنی بنائی ہوئی تصویر کو تکتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ دُھندلالی ہوئی تصویر پھر سے رنگوں کا روپ پانے لگی، پھر سے اُس کے نقوش نمایاں ہونے لگے اُسے لگا جیسے اُس کی بنائی ہوئی تصویر کسی روتے ہوئے بچے کا آنسووں سے دُھلا ہوا چہرا بن گئی ہو ۔
اُس را ت وہ سفید بالوں والا بو ڑھا آرٹسٹ اپنی جائے نماز پر دیر تک روتا رہا اور کسی بلبلاتے ہوئے بچے کی طرح اپنے خدا وندوتعالی سے گڑ گڑا کر فریاد کرتا رہا ۔ ۔۔
کیوں ایسی بھی کیا ضرورت تھی ۔۔؟تم نے ہمیں بے جان رنگوں سے ایک ہستی کی شکل دےدی ۔۔ تمہیں پتہ ہے نہ تمہاری اِن ہرایک آڑی تر چھی لکیروں کے پیچھے بہت کربناک فسانے ہیں۔۔ بھوک ، غربت ،بیماری افلاس و لاچارگی کے صدیوں پُرانے زمانے ہیں ۔۔ تمہاری تصویر کے رنگوں میں انسانی لہو سے بنے ہوئے آشیانے ہیں۔۔ تمہارا برش جو ر نگوں کی بہاریں لایا ہے ،وہ جو خیال کی صورت میں تم میں سمایا ہے ۔۔اُسے وہیںبسے رہنے دیتے۔۔ ہمیں اپنی ہی ذات کا حصہ بنے رہنے دیتے ۔۔ہماری ہستی کی ایسی بھی کیا ضرورت تھی۔۔ کیا محض اپنی ذات کو جاننے کے لیے ۔۔؟ کیا محض اپنی تخلیق کو ناپنے کے لیے۔ ؟ تمہیں توپتہ ہے نہ۔۔
میری تخلیق تو آرٹ گیلری میں محض ایک بار بکتی ہے اور تمہاری تخلیق یہاں دنیا میں بار بار۔ ۔۔۔

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ