اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

ادبی افق کے لیئے لکھیئے

آپ بھی اپنی ادبی تخلیقات ادبی افق میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تحریریں ادبی افق@اردولائف۔کوم کے پتے پر ارسال کریں۔ آپ اپنی تحریریں ان پیچ پروگرام میں بھی بھیج سکتے ہیں، تاہم رومن اردو میں کوئی  تحریر قابـلِ قبول نہیں ہے۔

 ترتیب و فہرست

ادبی افق مرکزی صفحہ
مضامین
گفتگو
محفل
شعرو شاعری
افسانے

کیا آپ جانتے ہیں؟

آپ اپنی تحریر براہِ راست یونی کورڈ اردو میں ، اردو پیڈ کے ذریعے لکھ سکتے ہیں. اردو پیڈ اور اردو ای میل کی سہولت آپ کو اردو لائف کی جانب سے بلامعاوضہ پیش کی جاتی ہے۔

انٹرنیٹ پر اپنی طرز کا واحد شمارہ اب یونی کورڈ اردو میں


تاریخِ اردو کا دوسرا آن لائن عالمی مشاعرہ
 تحریر: عبدالہادی

ادب ہر دور میں مختلف جہتوں سے ترقی کرتا رہا ہے کبھی زبان کے ارتقاءکے حوالے سے کبھی معاشرتی مزاج کے حوالے سے اور کبھی استعاروں،تشبیہات اور انداز سخن کے حوالے سے۔آج کا دور جسے اطلاعاتی دور کہا جاتا ہے اس دور نے ادب اور خاص طور پر اردو ادب کو ایک منفرد تغیر دیا ہے۔کبھی ادیب باہم بیٹھ کر مشاعروں کا اہتمام کیا کرتے تھے،اگر دوری مانع ہوتی تو خطوط کا سہارا لیا جاتاپھر ایک دور ادبی جرائدکابھی رہا۔مگر اب اردو ادب کے اظہار میں ایک تاریخی موڑ آیا ہے۔اب ادیب دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں ،ایک ہی وقت میں اپنی تخلیقات کا باہم تبادلہ کر سکتے ہیں۔ ورچوئل آن لائن مشاعرہ جس کا اردواصطلاحی ترجمہ بر سرِبرق مجازی مشاعرہ کیا جا سکتا ہے، اظہار کے اس جدید طریقہ کی بنیاد انٹر نیٹ ہے ۔سائنس نے زماں و مکاںکو مسخرتونہیں کیامگر کسی حد تک زماںو مکاں کے اسرار سے شناسائی ضرورکروائی ہے اور اسی فن کو استعمال کرتے ہوئے امجد شیخ صاحب، ڈاکٹر رفیع تبسم صاحب او ر ڈاکٹر محمدافضل شاہد صاحب نے ورچوئل آن لائن مشاعرہ کی طرح ڈالی۔ان حضرات نے 29 جنوری2005 کو پہلے عالمی ورچوئل آن لائن مشاعرے کا اہتما م کیا اور تاریخ رقم کی۔اسی سلسلے کا دوسرا مشاعرہ 25 جون 2005کو منعقدکیاگیاجس میں راقم نے بھی شرکت کی۔اس مشاعرے کی صدارت گورنمنٹ کالج لاہور کے معروف استاد،نقاداورشاعر جناب ڈاکٹر سعادت سعید صاحب نے کی،مہمان خصوصی اوسلو ،ناروے کی ایک یونیورسٹی میں اردو کے استاد ،اردو اور نارویجن زبان کے شاعرجناب جمشید مسرور صاحب تھے۔
حسبِ دستور مشاعرے کا آغاز قاری عمار اشرف صاحب کی آواز میں تلاوت قرآنِ پاک سے ہوا اورسید لیاقت حسین گیلانی صاحب نے تبرکاََ نعتیہ کلام پڑھا۔مشاعرہ کے پہلے ناظم جرمنی سے راشد ملک رامش صاحب نے اپنے مخصوص میٹھے انداز میں سخن گوئی کا آغاز کیا اور مشاعرہ کی مجازی شمع کوآگے بڑھاتے رہے۔بعد میںسویڈن سے امجد شیخ صاحب نے نظامت کے فرائض سنبھالے اور شرکاءنے پانچ گھنٹے تک اس شمع ادب کو روشن رکھا۔دنیا بھر سے سینکڑوں سامعین اس مشاعرے سے براہِ راست ذوقِ سماعت کی آسودگی کرتے رہے۔
مشاعرے میں اکثر شعراءنے اپنے کلام میںآنکھوں کا ذکر کیاشاید یہ اس بات کا استعارہ ہے کہ شاعرمعاشرے کی آنکھ ہے یا پھر آج کا شاعرکچھ زیادہ ہی شکارِ چشم ہے۔رامش صاحب کا ایک شعرملاحظہ ہو
 اس  دنیا  میں ہے   جھیل  سے  گہری  ذات مری
جھیل میں ہیں بس دو ہی کنول تیرے نین کنول
اس مشاعرے میں چالیس سال بعدایک صدائے ظرافت بھی سنائی دی۔ اوسلو، ناروے میں مقیم انتظار حسین گستاخ صاحب دلاور فگار اور پاپولر میرٹھی سے متاثر ہیں مگر ناروے میں رہتے ہوئے شاید کہیں سے عطاالحق قاسمی صاحب کی خوشبو بھی ان کے کلام میں سرایت کر گئی ہو، کہتے ہیں
لکھ  رہا  اقبال  پھر  سے قبر میں ضربِ کلیم
پایہ تخت اسلام کا جب سے ہوا واشنگٹن
پیر س، فرانس میں مقیم نوآموز شاعرہ ثمن شاہ نے بھی آنکھوں کے حوالے سے بہت ہی خوبصورت شعر پڑھا
آنکھوں میں بس گئے ہیں ساون کے رات دن
 آنکھوں   میں   ابرِ    باراں   ایسے  بسا  گیا
آئرلینڈ میں مقیم ڈاکٹر کامران اصغرشیخ صاحب کے ادبی ذوق نے انہیں علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں لٹریری سوسائٹی کا سیکریٹری بنائے رکھا۔انہوں نے ایک شعر میں اپنے تخلص کا کیا خوب استعمال کیا ہے
دنیا  میں   کامران   وہی   کامراں  ہوا
جو مشکلوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہا
سر زمینِ حجاز، سعودی عرب سے انوارالحق منہاس صاحب نے یہ شعر پڑھ کرانسان کے ایک غلط رویے کی مذمت کی
عداوت کے زمانے میں کوئی معیار رہنے دو
میرا سر کاٹ لو لیکن میری دستار رہنے دو

ایک خوش آئند بات کہ وسطی ایشیاسے بھی گلستانِ ادب میں صبائے اردو کی خنکی محسوس ہوئی ڈاکٹر وحید رزاق صاحب اوش، کرغزستان سے دام ِحسن و تمنا ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں
اب تمنا  کو  سرابوں  میں  نہ رکھے کوئی
حسن والوں کو نقابوں میں نہ رکھے کوئی
آج کل غزلوں کاایک نیا انتخاب مرتب کرنے میں مشغول گجرات، پاکستان سے امین عاصم بھی اپنے کلام میں آنکھ کا تذکرہ کئے بغیر نہ رہ سکے
بارشِ غم نہ ہو آنکھوں سے اگر
 دل  وہ  بستی  ہے  اجڑ  جاتی  ہے
نیویارک، امریکا سے الطاف سکندر بوسال صاحب نے آنکھوں کی روشنی کو اشعار میں روشن رکھا
سفر ان گنت صدیوں کا سمٹ آیا تھا اک پل میں
 نظر  پہلی  وہ  تیری   دید  کا    لمحہ    نہیں  بھول
ا
راقم (عبدالہادی) نے بھی اوش، کرغزستان سے اپنے منتشر افکارکو الفاظ میں یکجا کر کے پیش کیا
اجاڑ  موسم  میں  سپنے سارے بچا کے رکھنا بہار ہوگی
 یہ اشک تیرے بنےں گے شبنم چھپاکے رکھنا بہار ہوگی
بورے والا، پاکستان سے اکرام الحق جاذب صاحب نے سلسلہ سخنِ چشم جاری رکھا
چشمِ پر نم سے پھر وضو کر لو
اس  ستم  گر  کی   آرزو  کر  لو
لودھراں، پاکستان میں مقیم نوید صدیقی صاحب کا ادبی سفر دو دہائیوں سے جاری ہے۔بچوں کیلئے لکھتے لکھتے ان کا قلم بہت بے ساختہ ہو گیا ہے۔ تلخ حقائق کے بے ساختہ بیان کی ایک مثال دیکھے
کیا ہوا مرتی رہی انسانیت اس عہد میں
گوشواروں میں معیشت تو مثالی رہ گئی

پروفیسر جمیل حیدر قریشی صاحب بورے والا، پاکستان میں فروغِ علم میں مشغول ہیںاور حقیقتِ حال ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں
کیسے پہنچے گا  وہ  اپنی منزلِ مقصود پر
 جو ابھی تک قافلہ سالار سے واقف نہی
ں
بورے والا،پاکستان ہی سے نوجوان شاعر ڈاکٹرصلاح الدین عابد نے یہ خوبصورت شعر پڑھا
ہے آج مجھ پہ حکمرانی جو ایک خواہش کی
میں کل یہ خواہشیں ساری غلام کر لوں گا
انمول گوہرصاحبہ کا تعلق بھی بورے والا، پاکستان سے ہے۔انکی ایک کتا ب شائع ہو چکی ہے اور دوسری بھی جلدہی اہل ذوق کی دسترس میں ہوگی۔ان کا ایک امید افزاشعر
غموں کو قتل کرنے کی کہانی اب شروع ہو گی
کہ  اشکوں  کا  مری  جاں  یہ  بہاؤ آخری ہوگا

 اردو لائف کے روح رواں امجد شیخ صاحب نے بڑی ذمہ داری سے بطور منتظم اور ناظم اپنا کام نبھایا۔امجد صاحب سویڈن میں مقیم ہیںاور کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے متعلقہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کے توسط سے اردو ادب کی ترویج و ترقی میں کوشاں رہتے ہیں۔مشاعرہ میں وہ بھی شکارِ چشم نظر آئے
ایسی برسیں وہ ہجر میں آنکھیں
جیسے  برسات  پھر  نہیں ہوگی

سویڈن ہی سے ایک اور نام طیار رضوی صاحب کا تھا۔ان کے دو اشعارملاحظہ ہوں
تم ایسا کرنا کہ میری باتوں کو دل میں اپنے سنبھال رکھنا
 جو آج  باتیں میں کر رہا ہوں تم ان کا کل بھی خیال رکھنا

کراچی ،پاکستان سے حجاز اختر صاحب کا تلفظ بہت خوب ،اندازِ بیاں اور طرزِتکلم خوب ترہے۔ ان کا ایک شعر ہے
قفس ِعنصری میں بند ہوں میں
 کس قدر حریت پسند ہوں می
ں
حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد ، پاکستان کے سابق جنرل سیکٹری ثناءاللہ ظہیر صاحب بھی مشاعرے میں موجود تھے۔نعت ذوق و شوق سے کہتے ہیں۔ایک شعر میں آج کے آدمی کا المیہ بیان کرتے ہیں
اے زمانے! میں   تیرے  اشک  بھی  رو  لوں  گا
 مگر ابھی مصروف ہوں خود اپنی عزاداری میں
عقیل ملک صاحب کا تعلق اٹک ،پاکستان سے ہے۔ پاک فضائیہ کا یہ جوان فضا ئے ادب کے رموزو اسرار سے بھی خوب آشنا ہے،ان کا اندازِ تفکر ملاحظہ کیجے
یہ  جو  ہجر  ہے  یہی  زندگی کی دلیل ہے
 وہ جو ایک پل کا وصال تھا مجھے کھا گیا

ادبی مجلہ قلم دوست کے مدیر،اپنی تخلیقات میں نظم کے علاوہ نثر میں افسانہ ،کالم اور مزاح نگاری میں بھی اپنا نام رکھتے ہیں،مشاعرے کے ایک منتظم ڈاکٹر رفیع تبسم صاحب نے بورے والا، پاکستان سے اپنا کلام پڑھا۔اس مشاعرے میں بورے والا کا رنگ ڈاکٹر صاحب کے طفیل ہی نمایاں رہا
کیسی  ایٹمی  قوت  یارو  کیسی آج ترقی
آج بھی ننھے کاندھوں پر ہے مزدوری کا بار
کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر اورنگ زیب صاحب نے بھی بورے والا ،پاکستان سے مشاعرے میں شرکت کی
کسی سے جتنی نفرت ہے مرے چہرے سے ظاہر ہے
 منافق بن  کے میں  خنجر  قبائوں میں نہیں رکھتا
ملتان، پاکستان سے رضی الدین رضی صاحب کی آواز سے بھی ہماری سماعتیں معذور رہیں۔بہرحال مشاعرے میں ان کی موجودگی رہی ۔رضی صاحب ادب اور صحافت سے یکساں منسلک ہیں۔بڑی سادگی سے حالِ دل بیان کرتے ہیں
عشق میں جل تھل ہو جاتے ہیں
 د ونوں   پا گل   ہو   جاتے   ہیں
بورے والا،پاکستان سے ایک اور نام کاشف سجاد صاحب کاہے۔ برف پہ لکھا سورج تصنیف کر چکے ہیںاور اس سورج کا عکس ان کی شاعری میںبھی جھلکتا ہے۔بہت عمدہ اور متاثر کن اشعارکہتے ہیں:
اس شہر میں تیرا بھی کوئی جرم تو ہو گا
 الزام   مری   ذات   پہ  سارے  نہیں  اچھے

منتظمین میں ایک اور نام ، اٹلانٹا،امریکہ میں مقیم ڈاکٹر محمد افضل شاہد صاحب ۔چھ کتابوں کے مصنف،غالب کا منظوم پنجابی ترجمہ کر چکے ہیں،کالم نگاری سے بھی تعلق ہے مگر پیشہ ورانہ سرگرمیاں فزکس سے وابستہ ہیں۔ایک حوالہ تدریس کا بھی ہے۔اس ہمہ جہت شخصیت کا کلام دیکھے
گرم ریتوں کو سرابوں کو سمندر جانا
 آنکھ  جو  دیکھ سکی وہ ہی مقدر جانا
اردو ادب کا ایک نمایاں نام محمود غزنی صاحب،استاد ہیں اور بورے والا، پاکستان سے انہوں نے اپنے اشعار سے ہمیں نوازا۔ایک شعر بہت منفرد،سچا اور دکھتا ہوا
گھر کے افراد میں بڑھتی ہوئی دوری کے سبب
سانحے   صحن   میں   دیوار   لئے  پھرتے  ہیں
براڈ کاسٹنگ،مرثیہ گوئی اور شعرونثر میں ایک بڑا نام۔صفدر ہمدانی صاحب آج کل بی بی سی لندن کی اردو سروس سے وابستہ ہےں۔علمی خاندان سے تعلق ہے اورکئی کتابوں کے مصنف ہیں۔انہوں نے بھی اس مشاعرے میں اپنے کلام سے نوازا۔ قابل غور اشعار ملاحظہ کریں
تحفہ دیا ہے جبر کا نفرت کے دور نے
بہرہ  بنا  دیا  ہے  اذانوں کے شور ن
ے
مہمانِ خصوصی جمشید مسرور صاحب کو 1990 میں ناروے کا سال کے بہترین ادیب کا اعزاز دیا گیا اوران کے کلام کو نارویجن زبان میں ڈھالاگیا۔ حصولِ منزل کی جستجو کا فلسفہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں
منزل  کی  جنگ  میں ہے فقط فکر پائوں کی
گر کٹ گیا تو راہ میں سر چھوڑ جائوں گا
سر سنگ تو نہیں ہے مگر جب بھی اٹھ گیا
 زور آوروں کی آنکھ میں ڈر چھوڑ جائوں گا
آخر میں محفل مشاعرہ کے صدر نامور ادیب،نقاداور استاد ڈاکٹرسعادت سعیدصاحب نے جدیدتکنیک کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے منتظمین کی تعریف کی اور آن لائن سٹیج کے حقیقی مشاعرہ کی مجازی شمع کو اپنے اشعار سے دوام بخشا
آہو  پہ   وقت   مرگ  ہے یہ چیخ سن تو لے
 صحرا کی صید گاہوں کی تاریخ سن تو لے
صیاد  اپنے  خیمے  میں  ہے  تیز  ہے  چھری
خاموش  ہے  الاؤ  پہ  اک  چیخ  سن  تو  لے

یہ دوسرا آن لائن مشاعرہ اپنی نوعیت کا ایک تایخی مشاعرہ تھا۔اہل سخن نے بہت خوب کلام پیش کیا،اور منتظمین تو مبارکباد کے مستحق ہیں ہی۔اللہ کرے کہ فکرو عمل کی پرواز مزید بلند ہو ۔ آمین


ہے   ذوقِ  فکر  جمال  باقی  ابھی  تو  عطشِ  خیال  باقی
کمال باتیں کہی گئی ہیں فقط ہیں ا ب تو اعمال باق
ی
 

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ