اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

ادبی افق کے لیئے لکھیئے

آپ بھی اپنی ادبی تخلیقات ادبی افق میں شامل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تحریریں ادبی افق@اردولائف۔کوم کے پتے پر ارسال کریں۔ آپ اپنی تحریریں ان پیچ پروگرام میں بھی بھیج سکتے ہیں، تاہم رومن اردو میں کوئی  تحریر قابـلِ قبول نہیں ہے۔

 ترتیب و فہرست

ادبی افق مرکزی صفحہ
مضامین
گفتگو
محفل
شعرو شاعری
افسانے

کیا آپ جانتے ہیں؟

آپ اپنی تحریر براہِ راست یونی کورڈ اردو میں ، اردو پیڈ کے ذریعے لکھ سکتے ہیں. اردو پیڈ اور اردو ای میل کی سہولت آپ کو اردو لائف کی جانب سے بلامعاوضہ پیش کی جاتی ہے۔

انٹرنیٹ پر اپنی طرز کا واحد شمارہ اب یونی کورڈ اردو میں

شامِ مسرور: جناب جمشید مسرور صاحب کے ساتھ ایک آن لائن شام
صفدر ھمدانی

 جدید کمپوٹر ٹیکنالوجی کا ساتھ دیتے ہوئے اور اردو ادب و ادیب کو اسکے ہمرکاب رکھنے کے لیےاردو لائف کے امجد شیخ نے اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ورچوئل مشاعرے اور کسی ادیب شاعر کے ساتھ شام منانے کی جو جدت طراز طرح ڈالی ہے اسی کے تسلسل کی ایک کڑی کے طور پر اردو لائف اور قلم دوست کے زیرِ اہتمام ناروے کے اردو، پنجابی اورر نارویجین زبان کے مشہور شاعر ، ادیب، مترجم اور استادجناب جمشید مسرورصاحب کے ساتھ 11 جون کی شب ایک ورچوئل شام منائی گئی جس میں دُنیا بھر سے سامعین اور مہمان شعرا نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد اس تقریب کے انعقاد کے روح رواں امجد شیخ نے مہمان خصوصی، مقررین اور حاضرین کی بڑی تعداد کو خوش آمدید کہتے ہوئے جمشید مسرور کا مختصر تعارف کروایا جس کے بعد شاعر، ادیب، استاد اور بی بی سی کے براڈکاسٹر صفدر ہمدانی نے مسرور صاحب کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ اس مختصر وقت میں جمشید کے کارناموں کا احاطہ اس لیے مشکل ہے کہ وہ ایک ہشت پہلو شخصیت کے مالک ہیں ان کے بعداردو نظم کے جدید شاعر اور نقاد جناب ڈاکٹر سعادت سعید نے مسرور صاحب پر ایک نہایت پر مغزمضمون پڑھا جسے روم میں موجود سبھی حاضرین نے نہایت سراہا۔ اسی دوران گاہے بگاہے جمشید مسرور سے سوالات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اسی تسلسل میں محفل کا موڈ بدلنے کے لیے صفدر ھمٰدانی نے ہمیں جمشید مسرور کے ایک مقبول افسانے، رات ہمسائی اور انگوٹھا سے ایک اقتباس بھی پڑھ کر سنایا جس سے جمشید مسرور کی افسانہ نگاری کا رنگ بھی نکھر کر سامنے آیا۔ اس کے بعدجناب ڈاکٹر رفیع تبسم نے محمود احمد غزنی کی ترجمانی کرتے ہوئے جمشید صاحب کے بارے میں آپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر افضل شاہد نے اردو ادب کے حوالے سے کچھ سوالات تیار کیے تھے، جو اس تقریب میں جناب امجد شیخ نے کیے۔ رات اب کافی گزر چکی تھی اور مختلف ممالک میں مختلف اوقات کے باوجود حاضرین ترو تازہ تھے۔ جمشیدمسرور نے بعد ازاں حاضرین کی فرمائش پر اپنا کلام سنایا جسے بے حد سراہا گیا اور یوں تین گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلنے والی یہ شام مسرور اس کامیابی کے ساتھ ختم ہوئی کہ اب جمشید مسرور کے چاہنے والوں اور انکی شاعری کے پرستاروں کے حلقے میں پہلے سے بہت زیادہ وسعت آ گئ ہے۔

 

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ