اردو پیڈ اردوای میل اردو لائف ویڈیو محفلِ موسیقی ادبی افق بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ عید کارڈ سرورق
 رابطہ کریں تلاش کریں

تازہ ترین

شہزاد بیگ
منصور آفاق
 منتخب کلام ،  بزم ِ افتخار عارف ، ہیوسٹن  امریکہ  2012
شامِ فراز، ہیوسٹن ٹیکساس
خوشبیر سنگھ شاد 
فرحت عباس شاہ
افتخار عارف، خصوصی ریکارڈنگ، اسلام آباد
فیض احمد فیض آخری مشاعرہ، برطانیہ
طالب انصاری، واہ کینٹ  پاکستان

خصوصی ویڈیوز

افتخار نسیم کی یاد میںاضافہ
لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز، ڈاکومنٹری
آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب  لے گیا
ظلمت کو ضیا، جالب کی یادگار نظًم
نصرت فتح علی خان کی یاد میں
 

 

آپ کی ویڈیوز

آپ ہمیں اپنی ویڈیوز ارسال کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے معیار کے مطابق ہوئیں تو ہم اُنہیں ضرور شامل کریں گے۔ اس کے علاوہ یہ ہم آپ کی یوٹیوب پر موجود ویڈیو کو ان صفات پر بھی شامل کر سکتے ہیں اس سلسلے میں ہم سے رابطہ کریں۔
 

 

کیا آپ جانتے ہیں؟

آپ مشاعرہ ویڈیو یا آڈیو فایلز کو اردو میں سرچ کر سکتے ہیں ۔
 

   
موسیقی مضامین خصوصی ویڈیوز شاعری مشاعرہ آڈیو مشاعرہ ویڈیوز
 
مضامین

افتی نسیم بالکل شیشہ مچھلی جیسا آر پار دیکھ لو ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی

مجھے یہاں سڈنی میں رہتے ہوئے ایک زمانہ ہو چلا ہے اور میں نے ایسی تنظیموں کو بنتے،تقسیم ہوتے اور پھر ٹوٹتے بھی دیکھا ہے اور ایسی ننانوے فیصد تنظیموں کے کرتا دھرتا صدور و سیکرٹری صاحبان سے بھی بخوبی آشنا ہوں اور اسی وجہ سے دل میں کسک ہونے کے باوجود آج تک خود کو کسی تنظیم سے وابستہ نہیں کر سکی کہ ایسی صورت میں رہی سہی عزت سادات کے جانے کا بھی خدشہ اور خطرہ لاحق رہا ہے۔

اس وجہ سے میں ذاتی طور پر ادبی محفلوں سے بہت دور رہنا افضل ترین سمجھتی ہوں ۔ جس کی وجہ سے اکثر تنقید کی زد میں بھی رہتی ہوں ۔ جانے مجھے کیوں سب سے زیادہ منافق لکھنے والے قلمکار ہی لگتے ہیں ۔ دوسروں کو نصحیت کرنے والے اکثر ہی اخلاق اور کردار سے عاری ملتے ہیں ۔ آزادی اور زہنی کشادگی کی باتیں کرنے والے سب سے زیادہ تنگ نظر اور تنگ دل ہوتے ہیں ۔۔ ایسے میں اگر کوئی ایک دم سے یہ کہہ دے کہ وہ ? وہ عورت بھی ہیں اور مرد بھی۔ یعنی نرمان ? تو سوچئے اس بات کو کہنے کے لئے کتنی ہمت کی ضرورت ہو گی ۔۔ اللہ پاک نے افتخار نسیم افتی کو ایسا ہی پیدا کیا تھا ۔۔ پر یہ اقرار اسے بحثیت مسلمان کرنا چاہئے تھا یا نہیں ایک نامکمل موضوع کی طرح ہے ۔پر جو حقیقت تھی وہ یہ تھی کہ جو شخص مختلف نظریات کی انی پر ہر روز کٹ کٹ کر مرتا رہا وہ بیباک ? افتخار نسیم ? تھا جسے یار احباب پیار سے ? افتی ? کہتے تھے ۔

? تھا? کہتے ہوئے مجھے ایک دھچکا سا لگا ہے ۔ ابھی پچھلے ہفتے فیس بک پر میں نے ان کے ایک شعر پر داد دی تھی اور انہوں نے ? شکریہ نگہت ? لکھا تھا ۔ افتی انتہائی روادار انسان تھے ۔سوچتی ہوں کہ اگر وہ شکریہ نہ بھی لکھتے تو میں کیا کر لیتی اور جو کچھ برس پہلے ? احمد فراز ? کی موت کی خبر کی تصدیق کے سلسلے میں میرا فون نہ بھی سنتے تو میں بھلا کیا کہہ لیتی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا تھا ۔ انہوں نے ہر ممکن میری راہنمائی کی تھی اور ہم نے عالمی اخبار میں احمد فراز کی علالت سے لے کر وفات تک انہیں ہی اپنا انفارمر رکھا تھا ۔ وہ جس محبت اور رواداری کے گیت گاتے تھے اسی حسن سلوک کا پیکر بھی تھے ۔ منافقت سے دور رہنے والا افتی آج ? تھا ? ہو گیا ہے ۔

آج کی سب سے بڑی خبر یہی تھی کہ امریکہ کے شہر شکاگو میں مقیم معروف اور منفرد شاعر افتخار نسیم افتی انتقال کر گئے ۔
سب کہہ رہے ہیں ۔۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون

سب جانتے تھے افتخار نسیم گزشتہ دو دن سے شکاگو کے ایک مقامی ہسپتال میں کومے کی حالت میں تھے اور انکے بھایئوں خرم خلیق اور انجم خلیق نے انکے پرستاروں اور اردو سے محبت کرنے والوں سے انکی صحت یابی کی دعا کی اپیل بھی کی تھی لیکن کوئی دعا بھی شاید کارگر نہ ہو سکی اور افتخار نسیم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔وہ پاکستان کے معروف صحافی اور روزنامہ عوام کے مدیر مرحوم خلیق احمد خلیق کے فرزند اور خرم خلیق اور انجم خلیق کے بھائی تھے اور اپنے ادبی سفر کی ابتدا انہوں نے لاہور کے مردم خیز علاقے سے کی تھی لیکن عشروں پہلے امریکہ میں آباد ہو گئے تھے۔ افتخار نسیم شکاگو میں ایشیائیوں خاص طور پر پاکستانیوں کی پہچان تھے لیکن بقول خود انکے انکا مذہب محبت تھا۔

وہ بہت سے موضوعات پر متنازعہ بھی رہے۔ جیسے بی بی سی کی اردو سروس کے لیئے امریکہ کے حسن مجتبی نے انکا ایک انٹرویو لیا تھا جسمیں لکھا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ عورت بھی ہیں اور مرد بھی۔ یعنی نرمان۔ یہ افتی ہی ہو سکتےہیں جو جب بر صغیر میں اردو کی مہان ناول نگار قرت العین سے ملنے گئے تو اپنی جیب سے لپ اسٹک نکال کر انکے ہونٹوں پر لگانے لگے۔

حسن مجتبی نے ہی اپنے اس انٹرویو میں لکھا تھا کہ ? افتی فیصل آباد میں پیدا ہوئے تھے ۔ کچھ بڑے ہوئے تو ہیجڑوں کی سنگت میں انکی مڑھی ( ہیجڑوں کا مرکز) میں انکے لڑکپن کا اچھا خاصا حصہ گزرنے لگا۔

افتی ?مختلف? تھے اور ان کا مختلف ہونا انکی ذات کی سزا ٹہرا۔ وہ ایک ہم جنس یا ایک گے ہونے کے ناطے لائلپوری اور پاکستانی سماج میں جبر اور نفرت کا شکار رہے۔
سو اس طرح افتی امریکہ پدھارے۔ افتی نے امریکہ میں کالج جوائن کیا، کلب میں ناچے اور طرح طرح کے کاموں کے ساتھ ساتھ مرسیڈیز کاروں کے سیلز مین بھی رہے۔
افتی ایک شاعر، افسانہ نگار ، صحافی و کالم نگار، اور ایک مقامی دیسی ریڈیو سرگم کے شو کے میزبان بھی تھے ۔


اردو ادب میں افتی وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں گے یعنی ہم جنس احساسات اور شناخت کی بات ببانگ دہل کی ہے۔ ان کی وفات کی خبر سڈنی کے وقت کے مطابق دوپہر آج دو بجے ملی ۔۔ یقین ہی نہ ہوا ۔۔ پھر خبر کی تصدیق کے لئے احباب کی طرف رجوع کیا ۔۔ محترم المقام صفدر ہمدانی جو ان کے دیرینہ دوستوں میں سے ایک ہیں ، لندن میں رہائش رکھنے کی بنا پر انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا ۔ پھر افتی کے قریب ترین دوست امجد شیخ جو عالمی اخبار کی ٹیکنیکل بورڈ کے انچارج بھی ہیں ان کی تلاش ہوئی ۔۔ وہ بھی سویڈن میں رہنے کی وجہ سے وقت طلب انتطار کی نظر ہو گئے ۔۔ پھر سڈنی میں صدائے وطن کے مدیر اعلی جناب سید ظفر حسین کو فون کیا کیونکہ وہ بھی افتی کے دیرینہ رفیق ہیں ۔ان کے لہجے کی تشویش گواہی دے رہی تھی کہ وہ بے یقینی کے عالم میں ہے اور سچ کو ماننے کے لئے انہیں بھی حوصلہ نہیں ہو رہا ..پھر آخر مجھے معروف شاعر جناب عماد اظہر فیس بک پر مل ہی گئے جو فیصل آباد میں رہتے ہیں اور ان کا حلقہ احباب میں افتی رہے ہیں تو انہوں نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں اس خبر کی تصدیق کر دی ۔انہیں یہ خبر انجم سلیمی نے دی تھی ۔

اتنے میں فیس بک پر امجد شیخ بھی مل گئے ۔۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بھی خبر کی تصدیق کر دی اور انتہائی دکھ اور تاسف سے اپنے غم کا اظہار کیا ۔۔
? یا خدا، یہ کیسی خبر صبح صبح سننے کو ملی ہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کہوں اور کیا لکھوں۔ میرا ان سے گزشتہ پانچ چھ سال سے بہت گہرا تعلق تھا۔ میں نے اُن جیسا آدمی دوسرا نہیں دیکھا، بالکل شیشہ مچھلی جیسا۔ آر پار دیکھ لو۔ جیسا میں ہوں قبول کرو، ورنہ فک آف۔ ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا، ایک جاندار قہقہ۔ کتنی ہی باتیں اب یاد آرہی ہیں مگر لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا، افتی نسیم بھائی تمھارے نام کے ساتھ ، ابھی تھے لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا۔
افتخار نیسم تم کہا کرتے تھے امجد میں مر جاوٰں تو ایک ویڈیو میرے لیئے ضرور بنانا اور میں ہنس کر کہتا تھا کہ جتنی تصاویر آپ نے فیس بک پر ڈال دی ہیں، وہ 50 ویڈیوز کے لیئے کافی ہیں۔ آپ سکون سے مر سکتے ہیں۔
افتی بھائی میں نے غلط کہا تھا۔ تم نہیں مر سکتے۔ بھلا روشنی بھی کبھی مرتی ہے ؟ ?
پھر امجد شیخ نے لکھا ? نگہت میں بہت اداس ہوں ? ۔۔ ہاں امجد ہم سب ہی بہت اداس ہیں ۔۔

اتنے میں محترم المقام استاد محترم جناب صفدر ہمدانی (بابا) کا بھی فون آ گیا ۔۔ اور میں نے انہیں اس مشاعرے کی یاد دلا دی جب وہ دونوں سڈنی تشریف لائے تھے ۔ اردو سوسائٹی کی جانب سے اکتوبر دو ہزار سات کا سالانہ مشاعرہ تھا ۔

جس میں محترم المقام جناب صفدر ہمدانی لندن سے اور افتخار نسیم افتی نے امریکہ سے شرکت کی تھی ۔۔ ویسا مشاعرہ ابھی تک سڈنی کی تاریخ میں نہیں ہوا ۔ اس وقت ایف ایم ریڈیو دوستی کی میزبانی میرے زمہ ہوا کرتی تھی اور اس یاد گار مشاعرے کی آغاز سے لے کر شاعروں کے واپس لوٹنے تک ساری کوریج ہماری ٹیم کر رہی تھی ۔۔

اس وقت کے افتخار نسیم افتی میری آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔۔ سفید قمیض ، بلیک کوٹ پینٹ پہنے کبھی تصویریں کھنچوا رہے ہیں توکبھی انکار کر رہے ہیں ۔۔ انٹرویو کی توبات مت کریں ۔۔ مشاعرہ لوٹنے کے ہنر سے آباد افتی اس بات سے خفا ہو کر اسٹیج سے اتر آئے کہ انہیں میزبان کمپمیئر نے ? صرف ایک غزل سنانے ? کو کیوں کہا ۔۔ پھر اس آتش فشاں ماحول کو اور سر پھرے سے افتی کو سنبھالنے کے لئے صرف جناب صفدر ہمدانی کا ہی ہنر کام آیا ۔۔ اور افتی بار بار کہہ رہے تھے ? صفدر جانی یہ کوئی بات ہوئی انہیں شاعروں سے بات کرنے کے آداب نہیں آتے ? ۔۔

ہمیں اپنے رویوں اور باتوں سے اتناکچھ سمجھانے والا اب ہم میں نہیں رہا ۔۔ ۔۔ میں جناب صفدر ہمدانی سے کہہ رہی تھی اور وہ بہت ہی اداس تھے ۔۔ بھاری آواز میں کہہ رہے تھے ? افتی بہت کھرا آدمی تھا?

پھر انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا ? افتی بہت کھرا آدمی تھایہ وہ سکہ تھا جس کے دونوں طرف صرف سچ کہنے اور سچ بولنے کی تصویر تھی۔۔۔میرے کانوں میں اسوقت بھی اس کا طرز تخاطب گونجتا ہے۔۔۔۔صفدر جانی۔۔۔۔ میں جب شکاگو میں تھا اس نے جو عزت دی اسے لکھ ہی نہیں سکتا اور پھر آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں اسکے ہمراہ جو مشاعرے پڑھے وہ سب اسوقت ذہن کے پردے پر چل رہے ہیں۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ ?

آپ میں سے بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ بابا جناب صفدر ہمدانی آوازوں کی نقل بہت کامیابی اور خوبصورتی سے اتار سکتے ہیں ۔۔ بابا کو میں نے آسٹریلیا میں ان سے انہی کے لہجے میں بات کرتے دیکھا اور سنا تھا ۔۔ جس پر افتی کو بڑا مان تھا ۔۔ وہ بابا سے بہت محبت کرتے تھے یا وہ ہم سب سے ہی اتنی ہی محبت کرتے تھے ۔۔جب وہ زندہ تھے اس وقت احساس نہیں ہوا تھا پر آج ہر طرف سے آتے تعزیتی پیغام یہ بتا رہے ہیں کہ وہ سب ہی سے محبت کرتے تھے ۔۔ واقعی ہم گواہ ہیں کہ افتخار نسیم افتی کا مذہب ? محبت ? تھا ۔

یہ سچ ہے ایسے بیباک ، سچے اور محبتی انسان اب نایاب ہوئے جاتے ہیں ۔۔۔ اللہ کریم افتخار نسیم افتی کو اپنی خاص رحمتوں میں رکھے ۔۔ ۔۔ ۔۔ آین

 

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ