اردو پیڈ اردوای میل اردو لائف ویڈیو محفلِ موسیقی ادبی افق بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ عید کارڈ سرورق
 رابطہ کریں تلاش کریں

تازہ ترین

شہزاد بیگ
منصور آفاق
 منتخب کلام ،  بزم ِ افتخار عارف ، ہیوسٹن  امریکہ  2012
شامِ فراز، ہیوسٹن ٹیکساس
خوشبیر سنگھ شاد 
فرحت عباس شاہ
افتخار عارف، خصوصی ریکارڈنگ، اسلام آباد
فیض احمد فیض آخری مشاعرہ، برطانیہ
طالب انصاری، واہ کینٹ  پاکستان

خصوصی ویڈیوز

افتخار نسیم کی یاد میںاضافہ
لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز، ڈاکومنٹری
آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب  لے گیا
ظلمت کو ضیا، جالب کی یادگار نظًم
نصرت فتح علی خان کی یاد میں
 

 

آپ کی ویڈیوز

آپ ہمیں اپنی ویڈیوز ارسال کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے معیار کے مطابق ہوئیں تو ہم اُنہیں ضرور شامل کریں گے۔ اس کے علاوہ یہ ہم آپ کی یوٹیوب پر موجود ویڈیو کو ان صفات پر بھی شامل کر سکتے ہیں اس سلسلے میں ہم سے رابطہ کریں۔
 

 

کیا آپ جانتے ہیں؟

آپ مشاعرہ ویڈیو یا آڈیو فایلز کو اردو میں سرچ کر سکتے ہیں ۔
 

   

موسیقی مضامین خصوصی ویڈیوز شاعری مشاعرہ آڈیو مشاعرہ ویڈیوز
 
مضامین

 آہ ۔۔۔افتخار نسیم ۔۔۔افتی  ۔ از ڈاکٹر اختر شمار

کاروانِ ادب برطانیہ کی ادبی تقریبات سے واپسی ہوئی تو اگلے روز ہی افتخار نسیم افتی کا فون آ گیا ۔۔۔ہم دیر تک برطانیہ کے مشاعروں اور دوستوں کی باتیں کرتے رہے ۔اس دوران ذرا بھی احساس نہ ہوا کہ افتی بھائی بیمار ہے کہ اس کے قہقہوں میں وہی توانائی تھی جو اکثر اس کی گفتگو کے دوران بھی ظاہر ہوتی تھی۔ اس گفتگو کے اگلے روز فیس بک پر اسکے ہارٹ اٹیک کی خبر ملی ۔۔۔پھر پتہ چلا کہ وہ کومے میں چلا گیا ہے۔ہم سب دعا کرتے رہ گئے مگر ہفتے کی صبح کمپیوٹر آن کیا تو اسکی موت پر سارا فیس بک سوگوار تھا اور اسکے لیے تعزیتی پیغامات چل رہے تھے۔ اس کی نا گہانی موت پر سخت صدمہ ہوا، دیر تک دل و دماغ سکتے میں رہا ۔

پچھلے تین برسوں سے مسلسل یو کے میں اس سے ملاقاتیں ہو رہی تھیں میں نے ان ملاقاتوں میں ا سے ایک سچا دوست پایا ۔افتخار نسیم سے میری پہلی ملاقات 2000ءمیں ہوئی تھی جب میں پہلی بار امریکہ گیا تھا ۔ ان دنوں عدیم ہاشمی اسکے ہاں ٹھہرا ہوا تھا ۔ دونوں نے میری آمد کی خبر سنی تو بہت خوش ہوئے ۔ افتخار نسیم نے میرے اعزاز میں ایک یادگار شعری نشست منعقد کی تھی ، عدیم ہاشمی کے ساتھ بھی میری آخری ملاقات وہیں ہوئی تھی ، بعدازاں یو کے میں جب مجھے پہلی بار صابر رضا کے مشاعروں میں مدعو کیا گیا تو وہا ں افتی سے بہ نفس نفےس دوبارہ ملاقات ہوئی۔ صابر رضا کے مشاعروں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں شعراء بیس پچیس دن ایک جگہ قیام کرتے ہیں صبح شام اور رات دیر تک کی محافل میں ایک دوسرے کو کھل کر جاننے کا موقع ملتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ سالانہ ملاقات احباب کے لیے ایک ? چسکا?بن چکی ہے۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی سبھی ہر برس کاروان ادب کے مشاعروں میں جانکلتے ہیں ، یوں تو تمام شعراءان مشاعروں میں تشریف لا چکے ہیں لیکن افتخار نسیم ، خالد مسعود ، زاہد فخری ، ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، آغا نثار صابر رضا کے مشاعروں میں تواتر کے ساتھ شریک ہونے والوں میں سے ہیں ۔ اب پچھلے تین برسوں سے مجھے بھی اس محفل میں شرکت کا موقع نصیب ہو رہا ہے ۔ افتخار نسیم اور خالد مسعود اپنی گفتگو کے حوالے سے ان محافل کی رونق اور جان رہے ہیں ۔اس بار افتخار نسیم کسی وجہ سے پہلی بار اس محفل میں شریک نہ ہوسکے مگر اس کے باوجود وہ ہر روز ایک دوبار فون کے ذریعے حالات سے باخبر رہے ۔

افتخار نسیم سے اختلاف رکھنے والے بھی اس کی انسان دوستی ، مہمان نوازی اور کھرے پن کے معترف ہیں ۔وہ ہمہ وقت ایک فنکار دکھائی دیتا تھا ، صبح دم جاگ کر اپنے لیے کافی کا ایک کپ تیار کرکے ٹیبل پر رکھ لیتا اور پھر لکھنے پڑھنے میں مشغول ہو جاتا اس کے کالم کئی اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ عموماً صبح آنکھ کھلتے ہی وہ دنیا بھر کے دوستوں سے فون پربات کر تا تھا۔ اس کا رابطہ ہر عمر کے شاعروں اور ادیبو ں سے رہتا تھا ۔ آسٹریلیا میں نوشی گیلانی اور سعید خان ہوں یا ناروے میں مسعود قمر ، اٹلی میں جیم ف غوری ہوں یا ہیوسٹن میں افضال فردوس، شوکت فہمی یا پھر،فرحت پروین،ڈاکٹر عذرا پاکستان میں خاور نعیم ہاشمی ، خلیق انجم ، رانا مشہود خان، افضل ساحر ، مقصووفا انجم سلیمی ، اظہر جاوید ، نیلم احمد بشیر ، شہزاد بیگ ہوں یا ناصر بشیر ، وہ بلا تکان، بلا تکلف سب سے رابطے میں رہتا۔

افتی ایک سچا مسلمان پاکستانی تھا آپ اسکی تحریریں پڑھ کر دیکھ لیں وہ اپنی ہر تحریر میں کٹر پاکستانی دکھائی دیتا ہے وہ یاروں کا یا ر اور دشمنوں کا بھی دوست تھا ، بھلے احباب اس سے اختلاف رکھیں مگر امریکہ( شکاگو) میں ہمیشہ اسکی میزبانی پسند کرتے ہیں کہ وہ دوستوں پر دل کھول کر خرچ کرنے ولا شخص تھا ۔ اردو ، پنجابی اور انگریزی میں شاعری کے علاوہ اس نے کالم اور افسانے بھی لکھے ۔

پچھلے چند برسوں میں اس کی شہرت میں خاصا اضافہ ہو گیا تھا ۔ وہ دنیا بھر کے مشاعروں میں بلایا جانے لگا تھا ۔ فیس بک پر پچھلے ایک برس میں اس نے سینکڑوں تصاویر سجائیں شاید اسے علم تھا کہ وہ جانے والا ہے ،وہ اپنا سارا تصویری اثاثہ محفوظ کرنا چاہتا تھا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فیس بک پر اس کے ہزاروں فین اسکی ناگہانی موت پر سخت صدمے کے عالم میں ہیں ۔ وہ دوستو ں کے دکھ سکھ میں ہمیشہ پیش پیش رہتا لیکن دوستوں سے فون پر لمبی گفتگو کرنے والا اب دنیا میں نہیں رہا۔ موت برحق ہے لیکن نجانے کیوں یقین نہیں آتا کہ افتی ہم سے دور جا چکا ہے ۔۔۔وہ آج ہم میں موجود نہیں لیکن اسکی شاعری ، کہانیاں ، باتیں ، چٹکلے دلوں میں ہمیشہ تابندہ رہیں گے اور مجھ سمیت سینکڑوں دوست اسے بہت مِس کرتے رہیں گے، سب سے زیادہ آغا نثار مس کرے گا کہ پاکستان میں وہ واحد دوست تھا جسے وہ ہر روز فون کرتا تھا ۔آخر میں بلا تبصرہ اس کا شعر آپ کی نذر ہے۔


تو میرے ساتھ کہاں تک چلے گا میرے غزال
میں   راستہ ہوں   مجھے  شہر سے گزرنا ہے
 

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ