اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں

نواب اکبر بگٹی فوجی کاروائی کے دوران مارے گئے
وہ بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ تھے اور پچاس سال قبل بگٹی قبیلے کے انیسویں سرادر بنے تھے

بلوچستان میں گزشتہ چند ماہ سے جاری شورش میں نواب اکبر بگٹی شاید سب سے بڑا کردار تھے اور وہی سرکاری فوجوں کا سب سے بڑا ھدف بھی اور اب چھبیس اگست کو مری قبیلہ کے علاقہ کوہلو میں پاکستانی فوج کی کارروائی میں حکومت اور فوج نے اپنا سب سے بڑا ھدف حاصل کر لیا ہے۔
نواب اکبر شہباز خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوئے تھے اور انکے والد کانام نواب محراب خاں اور دادا کا نام سر شہباز بگٹی تھا جنہیں سر کا خطاب برطانوی حکومت نے اپنے عہد میں دیا تھا کیونکہ انہوں نے برطانوی فوج کی طرف سے جنگ میں حصہ لیا تھا اور اسی خطاب کے ساتھ انہیں بڑے پیمانے پر انگریز نے زمینیں بھی دی تھیں۔
نواب اکبر بگٹی ہوں نے برطانیہ میں آکسفورڈ کے علاوہ لاہور کے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی اور لگ بھگ پچاس سال قبل اپنے بگٹی قبیلے کے انیسویں سردار بنے تھے۔1949 میں انہیں اس وقت کی حکومت نے خاص اجازت دی تھی اور انہوں نے پاکستان سول سروس اکیڈمی سے پی اے ایس کا امتحان دیے بغیر تربیت حاصل کی۔1951 میں بلوچستان کے گورنر جنرل کے مشیر مقرر ہوئے اور سر فیروز خان نون کی وزارت عظمیٰ کے دوران 1958 میں وزیر مملکت برائے داخلہ امور کے طور پر وفاقی کابینہ میں شامل کیئے گئے اور سکندر مرزا کے مارشل لا تک اسی منصب پر کام کرتے رہے۔ اسکے علاوہ نواب اکبر بگٹی سندھ اور بلوچستان کے شاہی جرگہ کے رکن نامزد ہوئے۔60کے عشرے میں ایک فوجی ٹربیونل نے انہیں گرفتار کر کے سزا سنائی تھی جسکی وجہ سے وہ 1970 کے عام انتخانات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔
جنرل ایوب خان کے عہدمیں وہ کچھ عرصے جیل میں بھی رہے اور 60 کے عشرے میںوہ چھوٹی قومیتوں کے حقوق کی علمبردار جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شامل ہوگئے۔ پھر جب عطا اللہ مینگل بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے تو نواب بگٹی کے نیپ کی قیادت سے خاص طور پر گورنر غوث بخش بزنجو سے اختلافات پیداہوگئے اور پھر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹو صاحب کو مبینہ لندن پلان کے بارے میں آگاہ کیا تو فروری 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کی حکومت کو برخاست کیا اور اگلے ہی روز نواب اکبر بگٹی کو صوبہ بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا اور پھر نیپ کے خلاف صوبے میں فوجی کاروائی کی گئی۔ بعد ازاں انکے صوبے کی پالیسیوں پر ذوالفقار علی بھٹو سے بھی اختلافات پیدا ہو گئے اور انہوں نے گورنر کے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ گورنر کے طور پر انہوں نے کوئی دس ماہ اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ ہوگئے۔بعد میں 1977 میں ہی انہوں نے تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی جس کی قیادت ایر مارشل اصغر خان کر رہے تھے۔1988 کے انتخابات میں نواب اکبر بگٹی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1989 سے 1990 تک انہوں نے بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیئے تا آنکہ اسوقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے بلوچستان کی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔جب 1993 کے عام انتخابات ہوئے تو وہ ڈیرہ بگتی سے اپنی نئی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے لیکن انہوں نے 1997اور2000کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔1990 کے انتخابات میں شرکت کے لیئے انہوں نے اپنی جمہوری وطن پارٹی تشکیل دی تھی اور 1993 میں اسی کے پلیٹ فارم سے وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں اردو زبان کا بائیکاٹ کیا۔ 1992 میں انکے بیٹے سلال بگٹی کو کوئٹہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔
نواب اکبر بگتی کی کوہلو کے مری قبیلہ سے رشتہ داری تھی۔ بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار ہمایوں مری ان کے داماد ہیں۔گزشتہ تین برس سے اکبر بگٹی مری سرداروں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف شدت پسند قوم پرستوں کی قیادت کررہے تھے۔
انکی ہلاکت سے دو روز قبل بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں قبائلی جرگہ میں سرداری نظام ختم کرنے کا اعلان کیا گیا
تو مبصرین کا خدشہ تھا کہ کوئی بڑی کاروائی ہونے والی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق بگٹی قبیلے کی چھ مختلف شاخوں کے سربراہوں نے سرداری نظام ختم کرکے پاکستان کے قوانین کے تحت نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا جن قبیلے کے سربراہوں نے اس جرگے میں شرکت کی ان کے بھائی یا رشتہ دار نواب اکبر بگٹی کے حمایتی ہیں۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے بلوچ شدت پسندوں کی کارروائیوں پر بارہا انتباہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 77 کا عشرہ نہیں کہ عسکریت پسند پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی۔
اور سچ ہے کہ اس بار ہوا بھی ایسا ہی اور بلوچستان کا ایک نہایت طاقتور سردار فوجی کاروائی میں مارا گیا جس کے بعد بلا شبہ دوسرے سردار بھی اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں گے۔ یہ ساری صورت حال ایک بڑا سوالیہ نشان ہے؟


(صفدر ھمدانی ۔ لندن)

واپسي

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ