اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں

شہنائی زندہ --شہنائی نواز خاموش
استاد بسم اللہ خان وفات پاگئے
(صفدر ھمٰدانی۔لندن )

دُنیا بھر میں شہنائی کی پہچان کروانے والے اور شہنائی کو مقبول بنوانے والے برصغیر کی مقبول اور معروف شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان 21 اگست 2006 بروز پیر علی الصبح اکانوے برس کی عمر میں بنارس کے ایک ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انا اللہ وانا الیہہ راجعون
میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے 1993 میں لندن میں ہونے والی ایک تقریب میں استاد بسم اللہ کو سامنے بیٹھے ہوئے دیکھا بھی اور سُنا بھی۔ سفید کرتے ،پاجامے اور سر پر سفید ٹوپی میں ملبوس وہ موسیقی کا ایک پہاڑ دکھائی دے رہے تھے۔ اس ٍمحفل میں انہوں نے اپنی زندگی کے سفر کے کتنے ہی مراحل کی داستان سنائی اور پھر جب شہنائی بجانی شروع کی تو جیسے ہال میں موجود سارا مجمع پتھر کا ہو چکا تھا۔ حتیٰ کہ انہماک کا یہ عالم تھا کہ شہنائی ختم ہونے کے بعد چند سیکنڈ تک کسی کو تالی بجانے کا ہوش بھی نہیں تھا۔


استاد بسم اللہ خان بنارس میں اپنے گھر میں


بھارت کے صدر عبدالکلام کے ساتھ

استاد بسم اللہ خان کوشہنائی بجانے میں جو کمال حاصل تھا اسکے باعث دنیا بھر میں انہوں نے متعدد ممالک میں ہونے والی بڑی بڑی محفلوں میں اپنی شہنائی نوازی کا مظاہرہ کیا۔
یہ انکے کمالِ فن کا اعتراف ہے کہ بھارت میں اترپردیش کی حکومت نے انکے انتقال پر ایک روز کے سرکاری سوگ کا اعلان کرتے ہوئے پوری ریاست میں ایک روز کی تعطیل بھی کی۔
استاد بسم اللہ خان کی تدفین بنارس میں جسے اب وارانسی کہا جاتا ہے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
استاد بسم اللہ خان کی طبیعت گزشتہ کچھ عرصے سے خراب تھی اور اسی بنا پرانہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور چند ہی روز میں بظاہر انکی طبیعت سنبھلنے لگی لیکن پھر 21 اگست 2006 پیر کی علی الصبح انہیں دل کا شدید دورہ پڑا جس سے جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اپنے انتقال سے ایک روز پہلے استاد بسم اللہ خان کی طبیعت جب کچھ سنبھلی تھی انہوں نے اپنے قریبی لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایسی خواہش کا اظہار کیا تھا جو اب صرف ایک ناتمام خواہش ہی رہ گئی ہے ۔ ان کی خواہش تھی کہ انہوں نے دنیا بھر کے کتنے ہی ممالک میں اپنی شہنائی نوازی کے جوہر دکھائے لیکن وہ دلی میں انڈیا گیٹ پر شہنائی بجانے کی خواہش دل میں لیئے ہوئے تھے جو پوری نہ ہو سکی۔


شہنائی زندہ --شہنائی نواز خاموش

استاد بسم اللہ خان کو متعدد اعزازات ملے لیکن بھارت کے سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عوام کی محبت انکا سب سے بڑا اعزاز تھا۔ یہ سچ ہے کہ شہنائی بجانے کے فن میں استاد بسم اللہ خان نے پوری دنیا میں شہرت حاصل کی۔ عام طور پر ایک ایسا سانس کا ساز جو روایتی طور پر شادی بیاہ اور مندروں میں عبادت کے وقت بجایا جاتا تھا اسے اس عظیم فنکار نے کلاسیکی موسیقی کی ایک ہیئت دلوائی اور پھر بر صغیر سے اس ساز کو باہر نکال کردنیا بھر میں اسے ایک الگ اور منفرد شناخت دلائی۔

انہیں بھارت بھر میں ہر مذہب اور ہر ملت کے لوگ چاہتے تھے اور ایک رُخ سے انہیں جیسےگنگا جمنی تہذیب کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا تھا شاید اسی لیئے جب وہ علیل ہوئے تو ان کی صحت یابی کے لیئے دعائیں کر نے والوں میں ہندو اور مسلم دونوں ہی شامل تھے اور انکی وفات پر موسیقی سے اور خاص طور پر شہنائی سے پیار کرنے والا ہر انسان سوگوار ہے۔
وہ انتہائی سادہ انسان تھے اور شہرت کی بلندیوں پر ہونے کے باوجود غرور یا تکبر ان میں نام کو نہ تھا۔ جس قدر وہ دل اور طبیعت کے سادہ تھے اتنے ہی اپنی ظاہری صورت میں بھی سادگی کا نمونہ تھے ۔ بڑی سے بڑی محفل میں یا بڑی سے بڑی شخصیت سے ملاقات کے دوران وہ سفید کُرتہ ،پاجامہ اور سر پر نہایت سادہ سفید ٹوپی پہنے ہوتے تھے ۔ یہ بھی انکی سادگی کی ایک واضع دلیل ہے کہ اتنی شہرت کے باوجود وہ وارانسی میں اپنے چھوٹے سےگھر میں انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ موسیقار کے طور پر انہوں نے جو کچھ بھی کمایا اسے یا تواپنے لواحقین پر خرچ کر دیا اور یا غریبوں کی مدد کی اور شاید اسی لیئے اکثر تنگ دست رہتے تھے۔

اپنے شہر بنارس سے انہیں عجب قسم کا عشق تھا اور اسی عشق میں وہ سب کچھ ہونے کے باوجود یہیں رہے اور یہیں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایک مرتبہ انہوں نے بنارس سے اپنے عشق کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا تھا۔
ہم کہاں اور کس شہر میں رہتے ہیں میں آپ کو بتاتا ہوں۔ جب ہم امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، گھومے تو وہاں پر ہر کسی نے ہم سے پوچھا کہ یہ مغرب کیسا لگا؟ تو ہم نے کہا کہ سب اچھا ہے بس ایک چیز کی کمی ہے۔ سب نے پوچھا کہ وہ کیا؟ تو ہم نے کہا کہ بنارس نہیں ہے۔
استاد بسم اللہ 21 مارچ 1916 کو بہار کے ڈم راؤں ضلع میں پیدا ہوئے تھے اور چار یا پانچ برس کی عمر میں بنارس آ گئے تھے۔ موسیقی انکے خاندان میں موجود تھی اور اسی لیئے بچپن سے ہی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے بسم اللہ خان نے اپنے ماموں علی بحش سےشہنائی نوازی کی تعلیم حاصل کی اور پھر بعد میں بسم اللہ خان انہی کے ساتھ کاشی کے وشوناتھ مندر میں شہنائی بجانےلگے۔
انہوں نے پہلی مرتبہ 14 برس کی عمر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو اہلِ فن نے انکے کمالِ فن کی پیش گوئی کر دی تھی۔ بھارت کے رہنما جواہر لعل نہرو نے انہیں پہلی مرتبہ(استاد) کہہ کر پکارا تھا اور پھر تا حیات وہ استاد بسم اللہ کے نام سے ہی پکارے گئے۔
استاد بسم اللہ خان کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوں نے ہی پندرہ اگست 1947کی نصف شب لال قلعہ میں شہنائی بجا کر بھارت کی آزادی کا خیر مقدم کیا تھا۔
استاد بسم اللہ خان کی ایک خواہش یہ بھی تھی کہ وہ بھارتی پارلیمان میں اپنی شہنائی نوازی کا مظاہرہ کریں اور حکومت نے انکے احترام میں اگست 2003 میں انہوں پارلیمان میں اپنے فن کے مطاہرے کے لیئے مدعو کیا اور استاد نے علالت کے باوجود وہ سُر بکھیرے کہ بقول لوگوں کے ایک لمحے کو اسی پارلیمان میں لتا منگیشکر کے فن کا وہ مظاہرہ فراموش ہو گیا جو انہوں نے بھارت کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر کیا تھا۔
استاد بسم اللہ خان شہنائی نوازی کو عبادت کا درجہ دیتے تھے اور حقیقی عبادت یعنی پابندِ صوم و صلوات بھی تھے ۔وہ گنگا ،جمنا اور بنارس کےگھاٹوں پر گھنٹوں ریاض کر تے۔ یوں تو مسلک کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو شیعہ کہتے تھے لیکن موسیقی سے عشق کا یہ عالم تھا کہ ہندو مذہب میں موسیقی اور تعلیم کی دیوی سرسوتی کی پوجا بھی کرتے تھے۔
برصغیر میں محرم الحرام کے ساتھ موسیقی کا لفظ نہایت عجیب سا لگتا ہے لیکن یہ استاد بسم اللہ خان ہی تھے جنہوں نے شہنائی کی دل چیر دینے والی آواز کو کربلا کے مصائب کا گواہ بنا دیا تھا اورہر برس بنارس میں گنگا کنارے محّرم کی آٹھويں تاریخ کو جب شہنائی کی آواز میں داستانِ کربلا بیان کرتے تھے تو بلا تفریقِ مذہب و ملت وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں اشکوں سے لبریز ہوتی تھیں۔
استاد بسم اللہ خان آج ہم میں نہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ انکی کی شہنائی کی آواز زمانوں تک کانوں کی رزقِ سماعت مہیا کرتی رہے گی
 


منہمک ہوں اس قدر کہ سوچ بھی اپنی نہیں

واپسي

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ