Updata at Mehfil e Mushiara

What's New

What's coming

خصوصي تحريريں

(بيان پالتو جانورں کا (تحرير ابنِ انشاء
بھينس    گائے   بھيڑ   بکري    گدھا      کتا   آدمي     شير

بھلا ایسا بھی کوئی گھر ہے جس ميں ایک نہ ایک پالتو جانور نہ ہو. گائے نہیں تو بھینس، بھیڑ نہیں تو بکری. کتا نہیں تو بّلی، گھوڑا نہیں تو گدھا. جانور پالنا بڑی اچھی بات ہے. یہ صرف انسان کا خاصہ ہے. آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ کسی طوطے نے خرگوش پالا ہو، کسی مرغی نے کوئی بّلی پالی ہو، یا کسی گدھے نیں کوئی گھوڑا پالا ہو. گدھا بظاہر کیسا بھی نظر آئے ایسا گدھا بھی نہیں ہوتا.

پہلی قسم: دُدھ دینے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری وغیرہ
دوسری قسم: دُودھ پینے والے جانور مثلاً بّلی، کبھی سامنے کبھی چُوری چُھپے.
تیسری قسم: جو نہ دودھ دیتے ہیں نہ دودھ پیتے ہیں، مثلاً مرغی، کبوتر، طوطا وغیرہ
چوتھی قسم ہم بھول گئے ہیں، اس لئے اسے نظر انداز کرتے ہیں، اور تھوڑا تھوڑا حال ان جانوروں کا لکھتے ہیں

بھینس

بہت مشہور جانور ہے، قدمیں عقل سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے. چوپایوں مین یہ واحد جانور ہے کہ موسیقی سے ذوق رکھتا ہے. اسی لئے لوگ اِس کے آگے بین بجاتے ہیں. کسی اور جانور کے آگے نہیں بجاتے.

بھینس کبھی دودھ دیتی ہے لیکن وہ کافی نہیں ہوتا. باقی دودھ گوالا دیتا ہے اور دونوں کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے. تعاون اچھی چیز ہے لیکن پہلے دودھ کو چھان لینا چاہیئے تاکہ مینڈک نکل جائیں.

بھینس کا گھی بھی ہوتا ہے، بازار میں ہر جگہ ملتا ہے. آلوؤں، چربی اور وٹامن سے بھرپور. نشانی اس کی یہ ہوتی ہے کہ پیپے پر بھینس کی تصویر بنی ہوتی ہے اس سے زیادہ تفصیل ميں نہ جانا چاہیئے.

آج کل بھینس انڈے نہیں دیتی. مرزا غالب کے زمانے کی بھینس دیتی تھی. حکیم لوگ پہلے روغنِ گُل بھینس کے انڈے سے نکالا کرتے تھے. پھر دَوا جتنی ہے کُل بھی نکال لیا کرتے تھے. بہت سے امراض کے لئے مفید ثابت ہوتی تھی.

 

گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

یہ شعر مولوی اسماعیل میرٹھی کا ہے۔ شیخ سعدی وغیرہ کا نہیں ۔ یہ بھی خوب جانور ہے دودھ کم دیتی ہے۔ عزت زیادہ کراتی ہے، پرانے خیال کے ہندو اسے ماتا جی کہ کر پکارتے ہیں، ویسے بچھڑوں سے بھی اس کا یہی رشتہ ہوتا ہے۔

صحیح الخیال ہندوگائے کا دودھ پیتے ہیں، اس کے گوبرسےچُوکا لیپتے ہیں لیکن اس کو کاٹنا اور کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ ان کے عقیدے میں جو گائے کو کاٹتا ہے، اورکھاتا ہے سیدھا نرک میں جاتا ہے، راستے میں کہیں دم نہیں لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ گائے دودھ دینا بند کر دے تو ہندو اسے قصاب کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ قصاب مسلمان ہوتا ہے، اُسے ذبح کر تا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے، تو سارے نرک میں جاتے ہیں۔ بیچنے والے کو روحانی تسکین ہوتی ہے، پیسے الگ ملتے ہیں۔

جن گائیوں کو قصاب قبول نہ کریں انھیں گئو شالاؤں میں رکھا جاتا ہے، جہاں وہ بھوکی رہ کر تپسیا کرتی ہیں، اور کّووں کے ٹھونگے کھاتی پرلوک سدھارتی ہیں۔ غیر ملکی سیاح ان کے فوٹو کھینچتے ہیں، کتابوں میں چھاپتے ہیں۔ کھالیں برامد کی جاتی ہیں۔ زرِمبادلہ کمایا جاتا ہے۔

شاستروں میں لکھا ہے کہ دُنیا گائے کے سینگوں پر قائم ہے۔ گائے خود کس چیز پر کھڑی ہے۔ اس کا گوبر کہاں گرتا ہے، اور پیشاب کہاں جاتاہے۔ یہ تفصیلات بخوفِ طوالت شاستروں میں نہیں لکھیں۔

بھیڑ

بھیڑ کی کھال مشہور ہے، بھیڑ کی چال مشہور ہے اور بھیڑ کا مآل بھی مشہور ہے۔ بہت کم بھیڑیں عمرِ طبعی کو پہنچتی ہیں۔

جو رشتہ شیر بکری سے ہم نے بیان کیا ہے، وہی رشتہ بھیڑ کا بھیڑیے سے ہے۔ بھیڑیں کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ سفید بھیڑیں، کالی بھیڑیں وغیرہ، لیکن بھیڑیا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور یکساں چاہت سے لقمہ بناتا ہے۔

اِس جانور میں قربانی کا مادہ بہت ہوتا ہے اور انسان اس مادے سے بہت فائدہ اُٹھاتا ہے۔ گوشت کھا جاتا ہے، کھال بیچ دیتا ہے۔

 

بکری

گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی، لیکن دودھ یہ بھی دیتی ہے۔ عام طور پرصرف دودھ دیتی ہے لیکن مجبور کریں تو کچھ منگنیاں بھی ڈال دیتی ہے۔

جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی

بزرگ کی، روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔ یہ جو شاعری میں اوزان اور بحروں کی بدعت ہے۔ یہ اخفش صاحب سے ہی منسوب کی جاتی ہے۔ بیٹھے فاعلاتن فاعلات کیا کرتے تھے، جہاں شک ہو تصدیق کے لئے بکرے سے پوچھتے تھے کہ کیوں حضرت ٹھیک ہے نہ؟ وہ بکرا اللہ اُسے جنت میں یعنی جنت والوں کے پیٹ میں جگہ دے، سر ہلا کر ان کی بات پر صاد کر دیتا تھا۔ اس بکرے کی جسل بہت پھیلی، پاکستان میں بھی پائی جاتے ہے۔ سوتے جاگتے اس کے منہ سے یس سر، یس سر، جی حضور، بجافرمایا وغیرہ نکلتا رہتا ہے۔ اسے بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جن ملکوں میں بہت انصاف ہو ان میں شیر اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی پینے لگتی ہیں، جس طرح علامہ اقبال کے ایک شعر میں محمود اور ایاز ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ شیر پانی پینے کے بعد وہیں بکری کو دبوچ لیتا ہے، اُسے ناشتے کے لئے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔

گدھا

گدھا بڑا مشہور جانور ہے۔ گدھے دو طرح کے ہوتے ہیں،چار پاؤں والے اور دو پاؤں والے۔ سینگ ان میں کسی کے سر پر نہیں ہوتے۔ آج کل چار پاؤں والے گدھوں کی نسل گھٹ رہی ہے دو پاؤں والوں کی بڑھ رہی ہے۔

گھوڑے کی شکل ایک حد تک گدھے سے ملتی ہے، بعض لوگ گدھے گھوڑے کو برابر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ دونوں کہ ایک تھان پر باندھتے ہیں، یا ایک لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر گدھا اس پر اعتراض کرے تو کہتے ہیں، سنو ذرا اس گدھے کی باتیں۔ سوچنے کی بات ہے اگر گھوڑا کسی لائق ہوتا تو حضرت عیسی اس پر سواری نہ کرتے، گدھے کو کیوں پسند کرتے؟ شاعروں نے بھی گدھے کی ایک خوبی کی تعریف کی ہے۔ خرِ عیسٰی ہو یا کوئی اور گدھا اگر وہ مکہ بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہتا ہے۔ دوسرے جانور بشمول آدمی تو اپنی اصل بھول جاتے ہیں، واپس آکر القاب کے دُم چھلے لگاتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے ایک زمانے میں گدھوں کی مشابہت گھوڑوں کی بجائے آدمیوں سے زیادہ ہوتی تھی۔ غالب اپنے محبوب کے دروازے پر کسی کام سے گئے اُس کا پاسبان یعنی دربان ان کو حضرت عیسی کی سواری کا جانور سمجھ کر بوجہ احترام چُپ رہا، لیکن جب اُنھوں نے کنوتیاں جھاڑ کر اس کے قدم لینے کی کوشش کی تو سمجھ گیا کہ یہ تو نجم الدولہ دبیرالُملک مرزا اسد اللہ خاں بہادر ہیں۔ چناچہ کماحقہ بد سلوکی کی۔

اُونٹ
اُونٹ ایک جانور ہے، اکبر الہ آبادی نے اسے مسلمان سے تشبیہ دی ہے کیونکہ مسلمان کی طرح اس کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اور مسلمان کی طرح یہ بھی صحرا کا جانور ہے۔ بہت دن تک بے کھائے پیئے زندہ رہتا ہے۔ جس طرح ہر مسلمان کی پیٹھ پر عظمتِ رفتہ کا کوہان ہوتا ہے اس کی پیٹھ پر بھی ہوتا ہے۔

اُونٹ کو ڈاچی بھی کہتے ہیں، ڈاچی والیا موڈ مہار وے۔ ریلوے والون نے آج کل اس کو پہیے لگا دیے ہیں اور ایکسپریس بنا دیا ہے۔عربی میں اسے ناقہ کہتے ہیں۔ حضرتِ قیس کی محبوبہ لیلیٰ ہی نہیں اس زمانے کی سبھی عورتیں ناقے پر سوار ہوا کرتی تھیں۔

بعد میں ہند کے شاعروں صورت گروں اور افسانہ نویسوں کے اعصاب پر سوار ہونے لگیں کیونکہ اس میں ہچکولے کم لگتے ہیں۔ آرام زیادہ رہتا ہے۔

 

کتا

کتا پالتوجانور ہے۔ ہمارے شہر کی کارپوریشن اسے پالتی ہے اور مختلف علاقوں میں چھوڑ دیتی ہے۔ کارپوریشن اور بھی کئی جانور پالتی ہے مثلاً مچھر، مثلاً چوہے۔ لیکن بھونکنے والا جانور یہی ہے۔ کتابوں میں آیا ہے کہ جو کتے بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں۔ کاٹنے والے کو بھونکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بھونکتا وہ ہے جسے کاٹا جائے جس کو گزند پہنچے۔

کتا بڑا وفادار جانور ہے، کارپوریشن بھی اس کی بہت وفادار ہے۔جن دنوں میں کتّےشہریوں کو کاٹتے ہیں، کارپوریشن بھی ان کی ہمدردی میں کاٹنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ ٹیکس لاؤ ، وہ ٹیکس لاؤ۔ ناطقے کے علاوہ بھی کبھی کبھی پانی بند کر دیتی ہے جس سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ کارپوریشن کا شجرہ حضرت امام حسین کے کسی صاحبِ اقدار ہمعصر سے جا ملتا ہے۔

کارپوریشن کے علاوہ نجی شعبے میں بھی کتے ہوتے ہیں۔ ریّسوں کے کتے غریبوں پر بھونکتے ہیں۔ غریبوں کے کتے اپنے آپ پر بھونکتے ہیں۔

کتا اپنی گلی میں شیر ہوتا ہے، جس طرح شیر کسی دوسرے کے گلی میں کتا بن جاتا ہے۔

کتوں اور عاشقوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں راتوں کو گھومتے ہیں، اور اپنا اپنا کلام پڑھ پڑھ کر لوگوں کو جگاتے ہیں۔ اور اینٹ اور پتھر کھاتے ہیں۔ ہاں ایک کتا لیلی کا بھی تھا۔ لوگ لیلیٰ تک پہنچنے کے لئےاس سے پیار کرتے تھے۔ اس کی خوشامد کرتے تھے جس طرح صاحب کے سیکریڑی یا چپراسی کی کرنی پڑتی ہے۔

آدمی

دودھ دینے والے جانوروں میں پالنے لئیے سب سے اچھا یہ ہے۔ یہ نوکری کرتا ہے، دوکان کرتے ہے، تنخواہ لاتا ہے، بچے کھلاتا ہے، انھیں پیٹھ پر بٹھاتا ہے۔ عجیب شکلیں بنا کر ہنساتا ہے، بہلاتا ہے۔ اپنی مادہ کی خدمت میں جتنی دوڑ دھوپ یہ کرتا ہے کوئی اور جانور نہیں کرتا۔ اسی لئے تو اس کے سینگ غائب ہو گئے ہیں، کھر گھس گئے ہیں اور دُم جھڑ گئی ہے۔

اس جانور کا پالنا اور سدھانا سب سے آسان ہے۔ اسے طوطے کی طرح بولنا بھی سکھا سکتے ہیں۔ ایک آسانی یہ بھی ہے کہ گھر مین اس کے لیے الگ تھان یا پنجرہ بنانے یا زنجیر ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کمرے میں چاہو سُلا دو بھاگتا نہیں۔

شیر

شیر آئے، شیر آئے، دوڑنا
آج کل ہر طرف شیر گھوم رہے ہیں۔
دھاڑ رہے ہیں۔
!یہ شیرِ بنگال ہے
!!یہ شیرِسرحد ہے
!!یہ شیرِپنجاب ہے
لوگ بھڑیں بنے اپنے اپنے باڑوں میں دبکے ہوئے ہیں
بابا حفیظ جالندھری کا شعر پڑھ رہے ہیں
" شعروں کو آزادی ہے
آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں، چیریں پھاڑیں
کھائیں پئیں آنند رہیں"
شیر یا تو جنگل میں ہوتے ہیں
!یا چڑیا گھر میں
،یہ مُلک یا تو جنگل ہے
!یا چڑیا گھر ہے
!یا پھر قالین ہوگا
یاپھر کاغذ ہوگا
کیونکہ ایک شیر کاغذی بھی ہوتا ہے
یا پھر یہ جانور کچھ اور ہیں
آگا شیر کا، پیچھا بھیڑ کا
ہمارے ملک میں یہ جانور عام پایا جاتا ہے۔
شیر جنگل کا بادشاہ ہے
لیکن اب بادشاہوں کا زمانہ نہیں رہا
اس لیئے شیروں کا زمانہ بھی نہیں رہا
آج کل شیر اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی نہیں پیتے
بکریاں سینگوں سے کُھدیڑ بھگاتی ہیں۔
لوگ باگ ان کی دُم میں نمدہ باندھتے ہيں۔
،شکاری شیروں کو مار لاتے ہیں
اُن کے سر دیواروں پر سجاتے ہیں
ان کی کھال فرش پر بچھاتے ہيں
اُن پر جوتوں سمیت دندناتے ہیں
لوگوں کو فخر سے دکھاتے ہیں
میرے شیر تجھ پر بھی رحمت خدا کی
تو بھی وعظ مت کر
!اپنی کھال میں رہ

واپسي

 

 



Download and Install new True Type Unicode based Urdu fonts

  Send this page to a friend  

 

 Send Fax Mehfil-e-Moseeqi (Music)  Mehfil-e-Mushaira Urdu Poetry Post Card Flash Card Home Page

Copyright "www.UrduLife.com"