اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں


جشنِ فیض اور بے فیض لوگ ! تحریر: امجد شیخ

ہم نے دو قومی نظریے کو خلیجِ بنگال میں غرق کر دیا ہے، یہ الفاظ فتح کے نشے میں چور ہندوستان کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے تھے، جو اُنہوں نے سکوتِ ڈھاکہ کے تاریخی موقع پر اپنی فوج سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ پھر اس کے بعد ہماری فوج کے نوے ہزار سپاہیوں کے ہتھیار ڈالنے کا ذلت آمیز منظر۔ ہمارے ٹایگر نیازی کی یہ یاد گار تصویر جس میں وہ جنرل اروڑا کے ساتھ بیٹھے ہتھیار ڈالنے کے کاغذات پر دستخط فرما رہے ہیں۔ ذرا غور سے اُن کے چہرے کے تاثرات دیکھیے کہیں سے لگتا ہے کہ انہیں اس ذلت اور شرمندگی کا کچھ احساس بھی ہے ؟

ہم نے اس سانحے سے کچھ سبق سیکھا یا نہیں یہ ایک الگ کہانی ہے۔ ہمارے دشمنوں کو ضرور اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ اس دشمن کو مارنے کے لیئے بندوق کی ضرورت نہیں ہے۔
اور پھر گولی بندوق سے اپ کتنے لوگ مار سکتے ہیں۔ اصل مار تو نظریے کی مار ہے۔ یوں اُنہوں نے اس ثقافتی یلغار پر کام شروع کیا کہ غیر محسوس طور پر آہستہ آہستہ ہم پوری طرح اُن کے زیرِ اثر آگئے۔ کچھ ہمارے نصیب خراب کہ انہیں دنوں خلیج کی ریاستوں سے ہمارے ہاں دولت کی ریل پیل شروع ہوئی۔ ایلکٹرانکس کا ایک سیلاب سا سارے ملک میں آگیا، جس گھر میں وی سی آر نہیں بھی تھا وہاں پر بھی ساری ساری رات کرائے کے وی سی ار پر فلمیں دیکھی جاتی تھیں۔ انڈین فلموں کی اس وبا کا کافی عرصے بعد عمر شریف نے کسی حد تک اپنی ڈراموں کی مدد سے مقابلہ کیا ، مگر ایک آدمی کیا کر سکتا تھا، عمر شریف بھی اس دوڑ میں کافی پیچھے رہ گیا۔ فلموں کےبعد اُن کا کلچر ہمارے ملک میں آیا، اُن کی زبان آئی ، ان کا نظریہ آیا۔ اور پھر سب سے بڑھ کر جو بھی اُدھر سے آتا وہ ادیب ہو، شاعر ہو یا اداکار ایک ہی راگ الاپتا کہ دونوں ملک ایک ہیں ، یہ درمیان میں بے کار سی لکیر نہ جانے کیوں کھینچ دی گئی ہے۔ پھر ایک وقت واقعی ایسا آیا کہ ہمیں بھی یقین سا آگیا کہ پتہ نہیں کیوں یہ بیچ میں سرحد بنا دی گئی ہے۔

پھر ہمارا اپنا میڈیا آزاد ہو گیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب سب پاکستانی چینل مل کر اس کا کچھ توڑ کرتے، مگر وہ بھی اسی رنگ میں رنگتے چلے گئے۔ اب ہمیں پل پل خبر رہنے لگی کہ کس ہندوستانی اداکارہ کو کل سے قبض کی شکایت ہے ، اور کس ہدایت کار کو پیچش کی۔ اور ہوتے ہوتے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ اپنی ہر چیز گھٹیا قرار پائی۔ اب ہم مہدی حسن کے بجائے دلیر مہدی کے دیوانے تھے،اپنے شان ،سعود، ریمبو سب فضول اور ان کے تیسرے درجے کے اداکار ہمارے پسندیدہ ٹہرے۔ ہمارے لیئے گویا وہ لوگ اب ایک یونی ورسٹی قرار پائے ہمارا جو بھی اداکار یا گلوگار ہندوستان میں کام کر آیا ہیرو بن گیا۔

کیا آپ نے پاکستانی فلم خدا کے لیئے دیکھی ہے؟ اُسے ایک بار پھر دیکھیے اور سوچیے کہ انڈیا کے پاس ایسا کوئی بھی اداکار ہے جو ویسی اداکاری کر سکتا ہے جو شان نے اس فلم میں کی ہے ؟ اب اگر ہم ہی ہر فلم میں اسے لاچا پہنا کر ہاتھ میں گنڈاسا تھما دیں تو یہ اُس کا قصور نہیں ہے۔

آئیے آج کے حالات پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ساری دُنیا میں مشہور اردو شاعر فیض احمد فیض کا سواں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی ہر جانب اسی کا چرچا تھا۔ حالات کی ستم ظر یفی دیکھیے کہ پاکستان کے میڈیا پر یہ خبر چھائی رہی کہ آج شبانہ آعظمی اپنے شوہر جاوید اختر کے ساتھ پاکستان پہنچ گئی ہیں۔اُن کی اداکاری کے بارے میں تو میں نہیں جانتا ہاں، اردو شاعری اور فیض سے تعلق کو بیان کئے دیتا ہوں۔

شبانہ اعظمی ہندوستان کے مشہور ترقی پسند اردو شاعر کیفی اعظمی کی بیٹی ہیں۔ کچھ سال پہلے فیض پر ایک ڈاکومنٹری بنائی گئ تھی جس میں وہ خود فرماتی ہیں، کہ جب میں فیض صاحب سے ملنے گئی، تو وہ کچھ لکھ رہے تھے، لکھنے کے بعد کاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے دیکھو کیسا لگتا ہے۔ میں نے کاغذ ہاتھ میں لے کر ہچکچاتے ہوئے کہا۔ فیض چچا، اردو پڑھنا نہیں آتی۔ فیض صاحب نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہا، کیا ؟ کیفی اعظمی کی بیٹی کو اردو پڑھنا نہیں آتی ؟

اب آئیے ان کے شوہر کی طرف، جناب جاوید اختر صاحب بھی اردو کےمشہور شاعر جاں نثار اختر کے صاحب زادے ہیں ، اردو نظم کے اچھے شاعر ہیں مگر ادبی لحاظ سے ہم اُنہیں اوسط درجے کے شاعر ہی کہ سکتے ہیں۔ اردو نظم کے حوالے سے اُن کا مقام ن م راشد ، مجید امجد جیسے شعرا کے پاسنگ کو بھی نہیں ہے۔
تو یہ حقیقت ہے ان بے حیثیت لوگوں کی جن کا نہ اردو ادب میں اور نہ ہی شاعری میں کوئی مقام ہے کہ فیض پر کچھ کہ سکیں، یہ تو بہت ہی چھوٹا منہ اور بہت ہی بڑی بات ہے۔ مگر آفرین ہے ہم پر اور ہمارے میڈیا پر کہ ہم ان کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ باقیوں کا تو علم نہیں مگر اے آر وائی کی مرکزی خبر جو سنی تحریر کیے دیتا ہوں۔ فیض کے سوسالہ جشن کی تقریب میں شبانہ اعظمی کے ٹھمکے، لاحول پڑھ کر میں نے ٹی وی بند کردیا۔ انٹرنیٹ پر موجود بڑے اخباروں میں بھی فیض کے حوالے سے بس ان ہی دو ہندوستانی مہمانوں کا چرچا تھا۔

مجھے یہ الفاظ لکھنے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوتی اگر میں آج کے دن فیس بک پر یہ تصویر نہ دیکھ لیتا، کہ جشنِ فیض پر اشفاق حسین اور افتخار عارف کے درمیاں مرکزی حیثیت میں جاوید اختر تشریف فرما ہیں۔

اشفاق حسین جو اردو کے باکمال شاعر ہیں۔ اُن خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہیں فیض کی صحبت حاصل رہی ، انہیں کئی بار فیض کی میزبانی کرنے کا شرف حاصل ہوا، اشفاق حسین جس نے فیض سے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہا ر کے لیئے اُن پرکتاب لکھی۔ اس کتاب کو پاکستان کے ادبی حلقوں میں بہت پزیرائی حاصل ہوئی۔ اشفاق حسین جو کینیڈا میں اپنے ہزاروں کام چھوڑ کر، ہزاروں میل دور لاہور کے ایک سٹیج پر فیض کی محبت میں بیٹھا مسکراتا ہے۔ اشفاق حسین جسے ابھی پچھلے برس حکومتِ پاکستان نے ستارہِ امتیاز سے نوازا ہے۔ اشفاق حسین جو واقعی فیض پر اتھارٹی ہونے کے باوجود جشنِ فیض کی ساری خبروں میں گمنام ہے۔

دوسری جانب، آج کی اردو شاعری کا ستون افتخار عارف تشریف فرما ہے۔ ضیا کے زمانے میں جب فیض صاحب لندن میں مقیم تھے اور افتخار صاحب اردو مرکز میں ہوا کرتے تھے۔ تو اس زمانے میں اردو مرکز کی ساری رونقیں فیض کے دم سے ہوا کرتی تھیں۔ افتخار عارف کو فیض صاحب کے ساتھ سینکڑوں محفلوں میں شرکت کا شرف حاصل رہا ہوگا۔ افتخار عارف کئی بار فیض صاحب کاہمسفر بھی رہا ہوگا۔ افتخار عارف جو فیض کی زندگی کے کسی بھی پہلو پر بھر پور روشنی ڈالنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ افتخار عارف جو فیض کی شاعری پر تکنیکی حوالے سے تنقید کرنے کا علم، حوصلہ اور درجہ رکھتا ہے۔ افتخار عارف جس نے اردو زبان کی خدمت میں اپنی پوری عمر صرف کردی۔ اُس افتخار عارف کو فیض سے بےپناہ عقیدت ہونے کے باوجود، ہندوستان کے ایک فلمی شاعر کے برابر میں بیٹھنے کو جگہ ملی۔ خدا جانے یہ افتخار عارف کی تذلیل ہے یا خود فیض احمد فیض کی۔

اب جبکہ ہر کھری اور اصلی چیز ہمارے معاشرے سے ناپید ہو چکی ہے۔ بحثیت ایک قوم ہم پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ دشمن ہمارے جسموں کے ساتھ ساتھ ہمارے ذہن بھی فتح کیے بیٹھا ہے تو ان حالات میں میرا اشفاق حسین اور افتخار عارف دونو ں صاحبانِ ہنر کے لیئے ایک مشورہ ہے۔ کہ آپ بھی ہندوستان جا کر کسی ریالٹی شو میں حصہ لیجئے یا پھر کسی فلم کے لیئے کچھ گیت لکھ ڈالیے، دیکھیے ہمارا میڈیا کیسے آپ کو آنکھوں پر بٹھاتا ہے، کیسے آپ کے خلاف پروگرام پر پروگرام نشر ہوتے ہیں، ٹاک شوز میں مندوبین آستینیں چڑھا چڑھا کر بولیں گے کہ صاحب ان لوگوں نے تو پاکستان کی ناک کٹا دی ہے۔ جب یہ واپس آئیں تو ان پر مقدمہ چلنا چاہئے، چیف جسٹس صاحب خود اس کا نوٹس لیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان ٹی وی پروگرامز کی خبریں اخبارات میں شا ئع ہوں گی، اور پھر ان خبروں پر مذید ٹاک شو دیکھنے کو ملیں گے۔

یہ تو ہمارے حال کی بات تھی، چلتے چلتے کچھ ذکر مستقبل کا بھی ہو جائے، جس حساب سے ہماری قدریں بدل رہیں ہیں اور ہماری اگلی نسلیں پڑوسی ملک کی زبان اور کلچر کے زیرِ اثر آتی جا رہیں ہیں، کچھ بعید نہیں کہ چند سالوں بعدہمارے بچے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کریں، ماں۔ مجھے شکتی دو ماں! ہو سکتا ہے کے چودہ اگست پر یہ مشہور ترانا یوں پڑھا جائے۔

یوں دی ہمیں آجادی کہ دُنیا ہوئی ہیران
اے  قائدِ  اجم  تیرا   اہسان ہے اہسان

ہو سکتا ہے کہ فیض کی ایک سو پچیسویں سالگرہ مناتے ہوئے، ہم جشنِ فیج اہمد فیج منا رہے ہوں۔

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ