اردو پیڈ اردوای میل اردو لائف ویڈیو محفلِ موسیقی ادبی افق بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ عید کارڈ سرورق
 رابطہ کریں تلاش کریں

توجہ فرمائیں

شاعری  کو سننے کے لیئے آپ کے کمپیوٹر پر ریل پلیر انسٹال ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ موجود نہیں ہے تو اسے مفت ڈاون لوڈ کرنے کے لیئے
یہاں  کلک کریں۔

خصوصی ویڈیوز

افتخار نسیم کی یاد میںاضافہ
لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز، ڈاکومنٹری
آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب  لے گیا
ظلمت کو ضیا، جالب کی یادگار نظًم
نصرت فتح علی خان کی یاد میں
 

 

 بہترین شاعری

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں
پتھر
جاناں جاناں
خوبصورت موڑ
چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
سرِ منبر وہ خابوں کے محل تمیر

کیا آپ جانتے ہیں؟

محفلِ مشاعرہ اب صرف یونی کورڈ میں دستیاب ہوگا، رومن اردو اور تصویری سلسلے کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

 

یادِ جگر
جگر مراد آبادی  ایک عہد ساز شاعر
  صفدر ھمٰدانی۔لندن

سامعین کرام۔۔۔السلام علیکم۔۔۔۔اردو لائف ڈاٹ کام کی طرف سے ایک منفرد صوتی پروگرام کے ساتھ صفدر ھمٰدانی آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اردو لائف ڈاٹ کام کے روحِ رواں برادرم امجد شیخ نئے نئے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں اور ہم سب بھی انکے ہمراہ اسی تگ و دو میں ہوتے ہیں کہ اردو ویب سائٹوں کی اس وسیع دنیا میں کوئی اچھوتا خیال اور کوئی منفرد طرز کا پروگرام آپ کی خدمت میں پیش کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگرآپ سب کا تعاون اسی طرح ہمارے ساتھ رہا تو ہم بھی ہر بار ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ کوئی نہ کوئی نیا اور اچھوتا خیال لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہیں گے

آج کا یہ پروگرام رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی کے حوالے ہے کہ جنکی غزل ،نظم اور گیتوں نے خون جگر نچوڑ کر تخلیق کرنے والے جگر مراد آبادی کو دنیائے اردو ادب میں ایک لافانی شاعر بنا دیا ہے۔ اردو لائف ڈاٹ کام کے پاس اس نابغہ روزگار شاعر کی کچھ نایاب ریکارڈنگ موجود تھی جو جگر کی منفرد شاعری اور یگانہ طرزِ ادائیگی کی آئینہ دار ہے۔ ہم نے یہ سوچ کر کہ اردو شاعری کے اس ماہتاب کی آواز محفوظ ہو جائے آج کے اس پروگرام کو مرتب کیاہے۔ اس پروگرام میں  موجود صوتی ریکاڑنگ مہیا کرنے کے لیئے ہم ہوسٹن ٹیکساس کی اردو دوست شخصیت  اور خوبصورت لہجے کے شاعر جناب عدیل زیدی اور جناب موج رام پوری کے ممنون اور احسان مند ہیں
جگر نے خود اپنے بارے میں کہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔

سب کو مارا جگر کے شعروں نے
اور  جگر   کو   شراب  نے  مارا

 پھر اپنی میخواری کی حدِ بے پناہ کو کسی لگی لپٹی بغیر یوں افشا کیا کہ۔۔

بے  کیف  زندگی  ہے  جیئے  جا رہا ہوں میں
خالی  ہے  شیشہ  اور  پیئے  جا رہا  ہوں میں
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں  سے  بھی  نباہ  کیئے  جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی کی شاعری شعروں کی آمدنہیں بلکہ احساس و محسوسات کا برملا اور دو ٹوک اظہار ہے۔ ایک ایک لفظ اور حرف اپنی جگہ نگینہ ہے اور ان کے ہاں نغمگی روح کی تلاطم خیزی ہے اور شرطِ محبت دراصل ضبطِ محبت ہے۔۔ذرا دل کے تاروں سے نکلتی ہوئی اس صدائے باز گشت کو سنیئے

 نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے

جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور وہ بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر مراد آباد میں 1890 میں پیدا ہوئے تھے۔ علی سکندر سے جگر مرادآبادی بننے تک کا سفر یوں تو طویل سفر ہے لیکن شعور کی نظر میں یہ ایک فقط ایک جست ہے۔ جگر کی تاریخ وفات
کہیں 1958 اور کہیں 1960 ہے لیکن زیادہ تر تزکروں میں 1960 ہی تحریر ہے۔
انہوں نے غزل کو تغزل کی چاشنی دیکر وہ آبرو بخشی کہ خود غزل اپنے پر نازاں ہے۔ یوں تو فلمی اور غیر فلمی نغمہ نگاری میں بھی جگر نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا ہے لیکن انکی شاعری کا تمام تر حسن انکی غزل میں ہے'جگر کی میخواری کوئی پوشیدہ راز نہیں بلکہ وہ خود اسکا ذکر کرتے رہے ہیں اور اسی بلانوشی کے سبب تذکرہ نویسوں کے بقول انہیں بھول جانے کا عارضہ لاحق تھا لیکن یہ عجب معجزہ ہے کہ شعر پڑھتے ہوئے وہ شاذ و نادر ہی بھول کا شکار ہوتے تھے۔
میر تقی میر اور میر درد نے غزل کو جو خونِ دل دیا تھا جگر نے اسکی آبیاری خونِ جگر سے کی اور اس تنومند اور سایہ دار شجر کے سائے میں وہ اندر کے انسان کی آواز کو باہر کے انسانوں کو یوں سناتا رہا کہ اندر اور باہر کی دنیا ایک ہو جاتی اور اس میں ساری سحر کاری جگر کے ترنم کی تھی۔۔۔۔

دنیا   کے   ستم   یا د  نہ   اپنی  ہی   وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

جگر مراد آبادی کلاسیکی شاعری کے ایک مستند اور صف اول کے نمائیندہ ہیں اور کچھ نقادوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ کلاسیکی شاعری کا عہد جگر مراد آبادی کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔

 کسی  صورت  نمودِ  سوزِ   پنہانی   نہیں  جاتی
بجھا جاتا  ہے  دل  چہرے  کی ویرانی نہیں جاتی
محبت  میں  اک  ایسا  وقت  بھی دل پہ گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگر وہ بھی تو سر تا پا محبت ہی  محبت  ہیں
مگر   انکی   محبت  صاف  پہچانی  نہیں جاتی

جگر مراد آبادی کے بزرگ اس وقت کے مغلیہ دربار سے وابستہ تھے اور18 ویں صدی عیسوی میں یہ اعظم پور اور مراد آباد منتقل ہو گئے جہاں جگر نے عربی اور فارسی کی روایتی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں جگر کا استاد کوئی نہیں تھا لیکن جب وہ پندرہ برس کے تھے تو انہوں نے استاد داغ دہلوی کو اپنی ایک غزل دکھائی تھی۔مظہر جلیل،جگر کے ہم جماعت تھے اور انہوں نے {یادگارِ جگر} نامی کتاب میں لکھا ہے کہ جگر اپنی شاعری تصیح کے لیئے منشی حیات بخش المعروف رسا رام پوری کو دکھاتے تھے جو بعد میں جگر کے استاد بن گئے۔ نوجوانی میں جگر نے آگرے میں ایک عینکیں بیچنے والی کمپنی کے لیئے بھی کام کیا اور 1920 سے 1938 کے دوران میخواری کی طرف ایسے راغب ہوئے کہ بس جیسے بوتل کے ہو کر رہ گئے۔ اسی زمانے میں مشاعروں میں جگر کے ترنم کا طوطی بولتا تھا۔ جگر کے ہاں عشق و محبت کتنے ہی رُخ اور انداز سے موجود تھی۔ وہ بلانوش تو تھے ہی لیکن ٹوٹ کر محبت کرنے والے بھی تھے اور یہ محبت عشقِ حقیقی کا پرتو بھی بن جاتی تھی اور یہی حقیقی عشق تھا کہ جس نے انہیں 1953 میں حج کی سعادت سے فیض یاب کروایا اور کیسےمنفرد انداز میں جگر نے کہا کہ۔۔۔

عاشقی امتیاز  کیا جانے
فرقِ نازو نیاز کیا  جانے

جگر مراد آبادی خود تو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہیں اپنے روشن ماضی کا شعوری طور پر احساس تھا اور اسی باعث اپنی تمام تر اقدار سے بخوبی واقف تھے۔ان کے نزدیک زندگی کی حقیقت فقط خوبصورتی ہے اور اسی کو وہ کسی فلسفیانہ یا گنجلک انداز میں پیش کرنے کی بجائے عام اور سادہ الفاظ میں پیش کر دیتے ہیں اور اس حوالے سے وہ میر،داغ،مومن اور حسرت کا تسلسل ہیں۔بات کوئی بھی ہو اور موضوع کچھ بھی ہو جگر کے شعروں میں محبت کی دیوی خود بخود آن موجود ہوتی ہے' لیکن یہ ایک عجب سانحہ ہے کہ وہ ایک نامکمل محبت کے شاعر نظر آتے ہیں۔

آدمی    آدمی    سے   ملتا   ہے
دل  مگر  کم  کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ  کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
آج کیا  بات  ہے کہ  پھولوں  کا
رنگ  تیری  ہنسی  سے ملتا ہے
مل  کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ  کر  دل  اسی  سے ملتا ہے

جگر مراد آبادی کے مجوعہ ہائے کلام میں داغِ جگر شعلئہ طور اور آتشِ گل کو بہت پزیرائی ملی ہے اور ان میں موجود غزلیں تغزل کی بہترین نمائیندہ غزلیں ہیں۔جگر نے لاہور میں بھی کئی معرکتہ الآرا مشاعرے پڑھے اور وہ ترنم کا سلسلہ جوگزشتہ صدی کے آخر میں اقبال نے شروع کیا تھا اسی کی اتباع میں جگر نے بھی مشاعروں میں اپنی دھاک بٹھائی' لاہور ہی کے ایک مشاعرے میں انکی اس غزل نے جیسے سننے والوں پر قیامت ڈھا دی تھی اور یہ غزل آج بھی جگر مراد آبادی کی مقبول ترین غزلوں میں سے ایک ہے۔

یہ     ترا     جمالِ     کاکُل     یہ      شباب    کا    زمانہ
دل      دشمناں      سلامت     دلِ        دوستاں     نشانہ
میری    زندگی  تو   گزری   ترے   ہجر   کے   سہارے
میری   موت    کو  بھی   پیارے   کوئی    چاہیئے    بہانہ
میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق تجھ میں مجھ میں
ترا    درد ،    دردِ    تنہا     مرا      غم  ،     غمِ      زمانہ
مرے    دل    کے   ٹوٹنے   پر   ہے   کسی  کو   ناز  کیا  کیا
مجھے   اے     جگر     مبارک     یہ    شکستِ    فاتحانہ
 کہاں سے بچ پاتے ہیں کہاں تک علم و فن ساقی

جگر مراد آبادی کی شاعری کو فقط حسن و عشق کی شاعری سمجھ کر نہیں پڑھنا چایئے بلکہ اگر اس عروسِ غزل کے رُخ سے نقاب الٹ دی جائے تو ایک جہانِ دیگر دکھائی دیتا ہے۔20 صدی کے جن چار اردو شعرا کو غزل کی عمارت کے ستون قرار دیا جاتا ہے ان میں حسرت،اصغر اور فانی کے ساتھ جگر کا نام بھی شامل ہے' انہیں 1955 میں انکے مجموعے آتشِ گُل پر سہتیا اکیڈمی ایوارڈ ملا تھا اور جامعہ یونیورسٹی دلی کی لائبریری میں انکی یاد میںگوشہ جگر مختص کیا گیا ہے۔ مجھے اس وقت ایک بھارتی ایسی فلم کانام یاد نہیں آ رہا جس میں جگر نے خود اپنی کچھ نظمیں سنائی ہیں۔ ابھی جو میں نے جگر کی شاعری میں عشق کے موضوع کا ذکر کیا تھا تو اسکی وضاحت خود جگر کے اس شعر سے بخوبی ہو جاتی ہے۔

یہ عشق نہیں آسان بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے  اور ڈوب کے جانا ہے

ارے شبنم آسماں شکیدہ

جگر مراد آبادی کے حوالے سے ایک اور اہم بات آپ کی خدمت میں پیش کرتا چلوں کہ جس کے بارے میں خود ادبی دنیا میں بھی ایک غالب اکثریت کو اس سے کم ہی آگاہی ہے۔ بھارت کی فلمی دنیا میں گیت نگاری کے حوالے ایک بہت بڑا نام اسرار حسین خان المعروف مجروح سلطان پوری کا ہے کہ جو 1919 میں پیدا ہوئے تھے دو ہزار میں انہوں نے وفات پائی۔ مجروح سلطان پوری کو فلمی دنیا میں لانے والے شخص کا نام بھی جگر مراد آبادی ہی ہے۔ 1945 میں مجروح جب ایک مشاعرے کے لیئے بمبئی گئے تو جگر بھی انکے ہمراہ تھے جہاں عوام نے انکی شاعری کو سر کا تاج بنا لیا' اسی محفل میں معروف فلم پروڈیوسر اے آر کاردار بھی موجود تھے جو اپنے فلم شاہجہان کی نغمہ نگاری کے لیئے کسی موزوں شاعر کی تلاش میں تھے ۔ کاردار نے مجروح سے ملاقات کے لیئے جگر مرادآبادی کی خدمات حاصل کیں لیکن مجروح نے گیت نگاری سے انکار کر دیا لیکن یہ جگر ہی تھے جنہوں نے مجروح کو گیت نگاری پر راضی کیا اور پھرجب دل ہی ٹوٹ گیا والا نغمہ دنیائے فلم میں مجروح کی شہرت کا پہلا قدم بنا اور مجروح اس فلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ بن گے'
مجروح سلطان پوری کے اس گیت کی طرح فلمی دنیا میں جگر مراد آبادی کی اس غزل نے وہ شہرت پائی کہ آج بھی موسیقی کے شیدائی اس غزل پر سر دھنتے ہیں

کام   آخر    جزبہء    بے   اختیار   آ   ہی   گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا انکو پیار آ ہی گیا
اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدہء فردا پہ میں
فی  الحقیقت  جیسے   مجھ  کو  اعتبار  آ ہی گیا
جان  ہی   دے    دی  جگر  نے  آج  پائے  یار  پر
عمر   بھر   کی   بے   قراری  کو  قرار  آ  ہی  گیا

 یہ دن بہار کے اب راس آ نہ سکے

جگر مرادآبادی بلاشبہ اردو شاعری کا بالعموم اور ارود غزل کا بالخصوص ایک ایسا روشن نام ہے جو زمانے گزرنے اور زمانے بدلنے کے باوجود زندہ و تابندہ رہے گا۔
اردو لائف ڈاٹ کام نے رئیس المتغزلین جگر مرادآبادی کی آواز و کلام کو محفوظ کرنے کے لیئے یہ جو ایک کوشش کی ہے ہمیں یقین ہے کہ ہمارے سامعین اور عشاقِ اردو ادب اس پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں گے۔

ہزاروں   قربتوں   پر   یوں  مرا   مہجور  ہو جانا
جہاں  سے  چاہنا  انکا  وہیں  سے  دور  ہو  جانا
جگر وہ حُسنِ یک سوئی کا منظر یاد ہے اب تک
نگاہوں  کا   سمٹنا   اور   ہجومِ   نور   ہو   جانا  

اردو لائف ڈاٹ کام کی طرف سے اب صفدر ھمٰدانی کو اجازت دیجئے اورآپ جگر کے اس کلام سے محظوظ ہوں۔


 مدت میں وہ پھر تازہ ملاقات کا عالم


 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ