اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں

لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز
خیال سے حقیقت

احمد فراز اس دُنیا سے چلے گئے، یہ خبر سُن کر طبعیت پر ایسی اُداسی طاری ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ اسی شام کو کچھ تصاویر کی مدد سے 7 منٹ کی مختصر سی ویڈیو بنا کر آن لائن کر دی تو دل کو کچھ سکون ہوا۔ مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ یہ چھوٹی سی کاوش فراز کے لائق نہیں ہے ۔ سوچا کہ کیا ہی اچھا ہو اگر اللہ ہمت دے اور احمد فراز کی شان کے مطابق اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کر سکوں۔ تین چار دن اسی کشمکش میں گزر گئے، احمد فراز پر ٹی وی پر کچھ پروگرام دیکھ کر اور دل دُکھا کہ یا اللہ اِس عہد کے اتنے بڑے شاعر پر اس قدر گھٹیا معیار کے پروگرام۔ جو تصویر ہم نے مشاعرہ کے حصے میں رکھی تھی، فراز کی وہ 150 بائی 150 پیکسلز کی تصویر ٹی وی کی پوری سکرین پر پھٹی پڑ رہی تھی، اگر محاورے کو ایسے مروڑ دوں تو بےجا نہ ہوگا کہ پکسل پکسل ہو رہی تھی ۔ نہ بنانے والوں کو شرم آتی ہے نہ دیکھانے والوں کو۔ خیر اس قسم کے دو مختصر پروگرام دیکھ کر میں نے ارادہ کرلیا کہ یہ کام اب میں ہی کروں گا۔

سب سےپہلےلندن میں مقیم شاعر،ادیب،صحافی اور براڈکاسٹر صفدرھمٰدانی صاحب کا خیال آیا کہ ان سے بات کرتا ہوں، فون پر تو وہ نہیں ملے مگر ای میل کا جواب آگیا کہ امجد میں کل صبح آسٹریلیا سے لندن واپس پہنچ رہا ہوں، آتے ہی تمھیں فون کر لوں گا۔

صفدر صاحب سے اگلے دن بات ہوئی میں نے اُنہیں بتایا کہ یہ میرا خیال ہے، اس کا سکرپٹ آپ لکھیں اور کلام کے انتخاب میں بھی مدد فرمائیں۔خیال تھا کہ پروڈکشن کا کچھ بوجھ بھی ان کو منتقل کر دیا جائےمگر صفدر صاحب نے کہا کہ نہیں اسے آپ پروڈیوس کر رہے ہیں اس لیئے جو خاکہ آپ کے زہن میں ہے اس کوتحریر کر لیں پھر میں دیکھ لوں گا۔ ابتدائی طور پر دو غزلیات مہدی حسن اور نورجہاں کی آواز میں، اور 4 غزلیں فراز کی اپنی آواز میں شامل کی گئیں۔ میں نے اپنے پاس موجود مختلف ریکارڈنگز سے فراز کے کلام کو دوبارہ دیکھا اور سُنا تو کئی غزلیں اور نظمیں ایسی نظر آئیں جن کو شامل کیئے بغیر فراز کی شاعری کے مختلف پہلو واضع نہیں ہو تے تھے

فراز کی پہلی کتاب تنہا تنہا سے جواں جذبوں سے بھرپور دو نظمیں "ایبٹ آباد" اور "گئی رُت" میں نے پڑھیں اور احتجاجی مزاج کی نظم "پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں"، صفدر صاحب نے ریکارڈ کروائی۔ آخری وقت تک خاکے میں تبدیلی ہوتی رہی، ہمارے گرافکس کے انچارج بہت ہی ہونہار محمد اویس کی پسند پر "مت قتل کرو آوازوں کو" شامل کی گئی ۔ ایک اور نایاب ویڈیو "ردائے غم خموشی کا کفن پہنے ہوئے ہے" جس کا تذکرہ ابھی آئے گا دستیاب ہو گئی اسے بلکل آخری لمحوں میں شامل کیا گیا

آخر کار آخری دن خاکہ صفدر صاحب کے حوالے کردیا، اور انہوں نے ایک شاندار سکرپٹ لکھ کر ارسال کیا۔ شروع میں سکرپٹ کی طوالت کا اندازہ ہوا، سوچا کچھ اختصار سے کام لیا جائے، صفدر صاحب سے گزارش کی تو اُنہوں نےبڑی محبت سے کہا کہ جہاں سے دل کرے کاٹ دو۔ کیونکہ اسے تم پروڈیوس کر رہے ہو تو دیگر مشکلات کا اندازہ بھی تمھیں ہی ہوگا۔

میں نے 17 صفحوں کے سکرپٹ کو پرنٹ کیا اور دو تین بار مکمل پڑھا، پھر اندازہ ہوا کہ یہ تو ابھی کافی حد تک مختصر ہی ہے فراز کی شخصیت اور اس کا فن ہے ہی اتنا جامع کی00 17 صفحات اور لکھے جا سکتے ہیں، خیر میں تقریباّ ایک گھنٹہ سرخ قلم ہاتھ میں لیئے بیٹھا رہا اور ایک لفظ بھی نہ کاٹ سکا۔

رات گئے صفدر صاحب کو ای میل کی کہ جناب اسے ریکارڈ کر کے بھیج دییں۔ اللہ مالک ہے۔ جس نے اتنا کر دیا ہے آگے بھی بہتری ہوگئی اور انشااللہ احمد فراز پراحمد فراز کے شایانِ شان ہی فلم بنے گی۔

اب ضرورت تھی مواد کی۔ تصاویر، ویڈیوز، آٹوگرافس اور کوئی بھی ایسی چیز جسے استعمال میں لایاجاسکے۔ نیٹ پر تو ان کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہی تھی، بہت کم تصاویر دستیاب تھیں، اور وہ بھی بہت ہی کمتر کوالٹی کی ۔ ساتھ ہی ساتھ مختلف ویڈیو کو اکھٹا کرنے اور ترتیب دینے کا کام بھی کرنا تھا کہ کون سا کلپ کس جگہ اورکتنی دیر استعمال کرنا ہے۔
مختلف مشاعروں سے فراز کی شاعری کی ریکارڈنگز تو میرے پاس پہلے ہی موجود تھیں۔ ساتھ ہی 2005 ہیوسٹن میں منعقد کردہ شامِ فراز کی پوری تقریب کی ڈی وی ڈی بھی ہمارے عدیل بھائی نے ہیوسٹن سے ارسال کی تھی، جس میں فراز کی شاعری اور ایک انٹرویو شامل تھا، اسی محفل میں فراز کو حاضرین میں گھلے ملے بھی دکھایا گیا۔ اس ویڈیو سے بڑی مدد ملی، عدیل بھائی نے بڑی عنایت کی کہ اس محفل کی تصاویر بھی ارسال کر دییں۔
فراز کی سینکڑوں غزلیں بہت بڑے بڑے اُستادوں نے گائی ہیں۔ اس انتخاب میں بھی بہت مشکل پیش آئی بالآخر،'' شعلہ تھا جل بجھا ہوں '' اور'' سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے'' پر فیصلہ ہو گیا۔ یہ تو بات ہوگئی اُن ویڈیوز کی جو میرے پاس پہلے سے موجود تھیں۔

نئے مواد کی فراہمی کے سلسلے میں سب سے پہلا رابطہ جناب افتخار نسیم افتی سے شکاگو میں ہوا، جب میں نے انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا کہ ایسا کچھ کرنے جا رہے ہیں، تو وہ بہت خوش ہوئے اور اُنہوں نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ افتی بھائی نے فراز صاحب کے آخری آیام ان کی بہت خدمت کی تو سوچا ان کی زبانی ان کے خیالات بھی شامل کیےجائیں، افتی بھائی نے اپنی ساری نئی پرانی البمز سے 50 کے قریب تصاویر سکین کر کے ارسال کیں۔ یہ پروجیکٹ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہی تھا کہ، جرمنی سے طاہر ملک صاحب کا فون آیا، ان سے بھی تذکرہ کیا کہ آج کل فراز پر کام ہو رہا ہے، کہنے لگے کہ یار فراز جب جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے تو وہ سٹاک ہولم آئے تھے تو میں نے کچھ تصاویر کھینچی تھیں۔ میں کوشش کرتا ہو وہ مل جائیں۔ ان کا فون بند ہوا ، تو 10 منٹ میں ایک فون اور آیا، یہ نصر ملک صاحب ڈنمارک سے تھے ، کہنے لگے، امجد! جانی ایم ایس این پر آؤ کچھ تصاویر سٹاک ہولم کی تمھیں دینا ہیں۔ میں ابھی تک اس بات پر حیران ہوں کہ یا اللہ میں کچھ اور ہی مانگ لیتا، مگر شاید لگن سچی ہو تو خود بہ خود راستہ بنتا چلا جاتا ہے۔
جب میں مواد کے لیئے مختلف لوگوں سے رابطہ کر رہا تھا تو کسی صاحب نے سعید خان کا حوالہ دیا کہ ان سے پوچھا آپ نے ؟ ان کا فراز صاحب سے بہت قریبی تعلق رہا ہے، میں نے سوچا سعید خان۔۔۔۔۔۔ کون سعید خان پھر جیسے ایک کوندہ سا لپکا اور سعید خان، آسٹریلیا کا نام دماغ میں آیا، اور ساتھ ہی شرمندگی بھی۔ سوچا نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ان سے نہیں پوچھنا، بہرحال قصہ کچھ یوں ہے کہ انہوں نے بہت محبت سے مجھے اپنی کتاب ارسال کی، میں نے سوچا کم از کم کچھ صفحات پڑھ کر جواب دوں گا یا ای میل کروں گا۔ بس اسے الماری میں رکھ کر بھول گیا۔ کئی ماہ گزر گئے۔ اب اچانک یاد آیا ، ان کی کتاب نکالی اس میں ای میل بھی درج تھی۔ پھر وہ کیفیت کہ پوچھوں تو کس منہ سے ؟۔ بہرحال اسی سوچ نے کچھ حوصلہ دیا کہ یہ میرا ذاتی کام نہیں ہے، یہ اُسی فراز کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی کاوش ہے جس کی محبت کا دم وہ بھی بھرتے ہیں سو ان سے رابطہ کیا خلافِ توقع ان کا فوراََجواب بھی آگیا۔ اور اُنہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد از جلد تصاویر ارسال کریں گے۔ اور انہوں نے 60 کے قریب بہت عمدہ کوالٹی کی تصاویر ارسال کیں۔

صفدر ھمٰدانی صاحب نے ایک مضمون پڑھنے کو بھیجا تھا، احمد فراز پر اشفاق حسین صاحب کا۔ اشفاق صاحب کے مضمون کا عجیب سا اثر ہوا جیسے کوئی بنا بارش کے بھیگ جائے۔ کیونکہ ان کے اس مضمون میں افتی بھائی کا بھی ذکر تھا سوچا افتی بھائی سے اشفاق صاحب کا رابطہ حاصل کرتے ہیں۔ افتی بھائی کی وساطت سے اشفاق صاحب سے رابطہ ہوا، اشفاق صاحب سے غائبانہ تعارف تو تھا۔ مگر بات پہلی بار ہوئی ۔ بہت ہی شفقت سے پیش آئے اور میرے خیال کو بہت سراہا اور ساتھ ہی تصاویردینے کا وعدہ کیا، اشفاق صاحب کے قریبی عزیز ہسپتال میں تھے پھر بھی انہوں نے کئی راتیں جاگ کر تصاویر تلاش کیں اور 35 کے قریب تصاویر دو دنوں میں ارسال کیں اور اس کے بعد بھی کئی دفعہ مذید تصاویر بھجیں۔ اس سلسلے میں اشفاق صاحب سے رابطہ رہتا تھا ، باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کے پاس محاصرہ کی ایک شاندار ریکارڈنگ موجود ہے، جو انہوں نے ایک ڈی وی ڈی پر ریکارڈ کر کے مجھے ارسال کی، یہ ریکارڈنگ اس ویڈیو میں شامل ہے۔
ہمارے ایک کرم فرما جناب اقبال رضوی صاحب برمنگھم سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اُن کے پاس فراز کی جلاوطنی کے زمانے کی ایک انتہائی خوبصورت غزل ''ردائے غم خموشی کا کفن پہنے ہوئے ہے'' موجود تھی، انہوں نے وہ ارسال کر دی۔ فیض صاحب پر ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر ملی جس میں فراز ضیا دور کے حالات بتا رہے تھے، کوالٹی کافی خراب تھی۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ اسے استعمال کیا جائے تو کیسے ۔ کہ اقبال رضوی صاحب کا فون آیا۔ باتوں باتوں میں یہ بات بھی زیرِ گفتگو آگئی، وہ بولے یہ ویڈیو تو میرے پاس موجود ہے ، میں ابھی اس کی ڈی وی ڈی بنا کر آپ کو بھیج دیتا ہوں۔ لیجئے صاحب دو دنوں بعد میں یہ ڈی وی ڈی ہاتھ میں پکڑے سوچ رہا تھا، کہ "کوئی تو ہے تیری نگارش میں شریک۔"
میرے علم میں تھا کہ افتی بھائی کے پاس فراز صاحب کے آخری ایام کی تصاویر ہیں۔ مگر مجھے اُن سے مانگنے کا حوصلہ نہیں ہوا خدا جانے کیوں،  لیکن جب اس ویڈیو کے کچھ حصے تیار ہو گئے اور میں نے انہیں دیکھنے کے لیئے بھیجے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اور انہوں نے کہا امجد، میرے پاس فراز صاحب کی کچھ ہسپتال کی تصاویر ہیں، تمھیں بھیج رہا ہوں، جیسے مرضی استعمال کرو۔ فراز صاحب کے آخری ایام کی تصاویر دیکھ کر دل بہت دُکھا، خیال آیا کہ انہیں استعمال نہیں کر نا چاہیے فراز کو ہماری یادوں میں ہنستے مسکراتے شعر پڑھتے ارغوانی کولا پیتے ہی رہنا چاہیے مگر پھر چند دوستوں کے اصرار پر انہیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا کہ یہ حق سب کو ملنا چاہیے کہ وہ اپنے محبوب شاعر کے اخری ایام کو دیکھ سکیں۔

اس کا دستاویزی فلم کا نام "لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز" بہت سوچ و بچار کے بعد رکھا گیا ہے ہم چاہتے تھے کہ فراز کا ایسا شاندار مصرعہ استعمال کریں جو پہلے ہی زیادہ مقبول نہ ہو۔ اور یقین کریں یہ خاصا مشکل کام تھا، کیونکہ فراز کے سینکڑوں مصرعے محاوروں کا درجہ رکھتے ہیں۔
جب اس ویڈیو کو بنانے کا مرحلہ شروع ہوا اور ساتھ ہی ساتھ پس پردہ موسیقی کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو راگ راگنیوں سے ناواقف ہونے کی مجبوری کا احساس ہوا۔ پہلے تو اس بارے میں کچھ علم حاصل کیا کہ کس راگ کی کیا شکل ہے کیا ماحول ہے۔ کسے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر یہ فیصلہ کہ کس ساز کو کس راگ میں کس جگہ استعمال کرنا ہے اور اس کے بعد مشکل مرحلہ موسیقی کے حصول کا۔ خدا کا شکر کہ انٹرنیٹ کی بدولت چاہے پنڈت شرما کا سنتور ہو یا امجد علی خان کی سرود، بسم اللہ خان کی شہنائی ہو یا رنبیر سنگھ کی سارنگی، ہری پرساد چورسیا کی بانسری ہو یا پھر روی شنکر کا ستار سب کچھ دستیاب ہوگیا، کچھ ڈاون لوڈ کے زریعے اور کچھ آن لائن خریداری کے زریعے۔

ایک اور بہت اہم شعبہ گرافکس کا تھا۔ کراچی شہر سے ہمارے ساتھی محمد اویس نے مہینوں کی محنت سے یہ گرافکس تیار کیے ہیں۔ اور ایک ایک فریم پر انہوں نے بہت محنت کی ہے، اور پوری کوشش کی ہے کہ شعر یا ماحول کے مطابق گرافکس کو بنایا جائے، اللہ اُنہیں خوش رکھے اور اس کا اجر دے۔
اس ویڈیو میں کئی تصاویر بیک گراونڈ کے طور پر استعمال کئی گئی ہیں، جن میں سے کچھ تو میری اپنی اُتاری ہوئی ہیں۔ کچھ دوسرے دوستوں نے ارسال کی ہیں۔ ایبٹ آباد اور اسلام آباد کی کچھ تصاویر ایک بہت ہی قریبی عزیزہ کی کاوش ہیں جنہوں نے نام لکھنے سے منع کیا ہے۔

اور اب! جب، سب کچھ ختم ہو چُکا اور چند ہی گھنٹوں میں یہ فلم آن لاین ہونے جا رہی ہے، لیکن مجھے تو یہ ہی سمجھ ہی نہیں آرہی کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ یہ کام جو چند مہینوں پہلےبظاہر ناممکن نظر آتا تھا، کیسے مکمل ہو گیا، سارے دروازے جیسے خود بہ خود کُھلتے چلے گئے ، کیا کوئی ان بند دروازوں کے پیچھے کھڑا میرا انتظار کر رہا تھا؟ کیا یہ میری اس پروجیکٹ سے لگن کا صلہ تھا جو میرے مالک نے مجھے دیا یا یہ خود فراز تھے، جو وسیلے پر وسیلہ بناتے چلے گئے ؟ میری عقل اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔
عبداللہ حسین نے ایک بار اپنے ایک ناول کے بارے میں لکھا تھا کہ کہ مجھے اس ناول کو ختم کرنے کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ میرے کردار مجھ سے بچھڑ گئے۔ کچھ ایسی کیفت آج میری بھی ہے۔
دُنیا سے تو فراز 25 اگست 2008 کو بچھڑا تھا مجھ سے آج 28 نومبر 2008 کو جدا ہو رہا ہے۔

نظم دلہن  تھی تیری  غزل  تیری  محبوبہ
الوداع احمد فراز جا تجھ کو خدا کو سونپا

 کئی لوگوں نے اس شعر کی ساخت اور وزن پر اعتراض کیئے ہیں، جو سب اپنی جگہ سہی، مگر یہ میرا احمد فراز کو ایک ٹوٹا پھوٹا شعری خراج ہے جس پر مجھےفخر ہے

میرا فراز مجھ سے بچھڑ گیا، میں نے گزشتہ چند ماہ واقعی فراز کے ساتھ گزارے ہیں۔ میں احمد فراز کے ساتھ ساتھ جیا ہوں مگر اب جدائی کی گھڑی ہے، مجھے اپنے راستے پر چلنا ہے کہ اسی کا نام زندگی ہے ۔ یہ دن بلا شبہ میری زندگی کا اساسہ ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرا فراز مجھ سے بچھڑ کر بھی مجھ سے جدا نہیں ہوا، وہ اس فلم کے نتیجے میں میرے اور آپ سب کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ اور یاد دلاتا رہے گا کہ لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز۔

واپسي

 

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ