اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں


منیر نیازی کے انٹرویو کے اقتباس
 سننے کے لیئے کلک کریں

 منیر نیازی  لاہور میں انتقال کر گئے
 صفدر ھمدٰانی ۔ لندن


جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں  بھی منیر
غم  سے  پتھر  ہو  گیا  لیکن  کبھی  رویا نہیں
٭٭٭

میری  ساری  زندگی  کو  بے ثمر اُس نے کیا
عمر میر ی تھی مگر اس کو بسر اُس  نے کیا
شہر  کو  برباد  کرکے  رکھ  دیا اُ س نے منیر
شہر  پر  یہ  ظلم میرے  نام  پر   اُس  نے کیا

ایسے کتنے ہی شعروں اور ان گنت نظموں اور غزلوں کے خالق ارود اور پنجابی کے نہایت مقبول شاعر منیر نیازی ٢٦ دسمبر ٢٠٠٦منگل کی شام لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ منیر نیازی ١٩٢٨میں ہوشیارپور کے ایک گاؤں خانپور میں پیدا ہوئے تھے اور یہ شاید اس گاؤں کا قدرتی اور فطری حُسن تھا جو منیر میں تجسیم ہو کر رہ گیا اور کبھی بھی اس کے سحر سے باہر نہ نکل سکے۔
مجھے آج ریڈیو پاکستان میں ٠٧ کے عشرے میں گزارے ہوئے دن بہت یاد آ رہے ہیں جب منیر نیازی سے مستقل ملاقات لاہور ریڈیو اور پاک ٹی ہاؤس میں رہتی تھی
میں،نسرین انجم بھٹی،شائستہ حبیب مرحومہ،اقبال فہیم جوزی،ہم سب جب بھی انکی محفل میں بیٹھتے تو وقت کا جیسے کوئی احساس نہ رہتا اور انکی باتوں کے ساتھ ساتھ انکی فلر اور شخصیت کا سحر دیر تک اپنی گرفت میں رکھتا تھا۔ میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جس نے کتنے ہی ایسے مشاعروں میں شرکت کی جس میں منیر نیازی نے بھی اپنی شاعری کا جادو جگایا اور ہم جیسے قلم کار ان کو سُن کر لکھنے کا ڈھنگ سیکھتے تھے۔ لاہور ریڈیو کا ستر کے عشرے میں مقبول ادبی پروگرام میزان تھا جس کے پروڈیوسر فہیم جوزی ہی تھے اور اسوقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر اظہار کاظمی خود بھی اس پروگرام کی تیاری میں ذاتی دلچسپی لیتے اور شرکت بھی کرتے تھے۔ اس ادبی پروگرام میں اکثر منیر نیازی جب شرکت کے لیئے آتے تو پھر دوپہر شام میں اور شام رات میں ڈھل جاتی اور انکی سحر انگیز گفتگو جاری رہتی
وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے لیکن انہوں نے غزل،گیت،قطعے اور متعدد اصناف سخن میں لکھا اور پھر انہوں نے محدود طور پر فلمی شاعری بھی کی۔
ایک اعتبار سے منیر نیازی اس لیئے خوش قسمت تھے کہ انہیں ایک ادب دشمن معاشرے میں خوب پزیرائی بھی ملی اور مبقولیت بھی اور جس معاشرے میں لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کسی ایک مجموعے کی شاعت کے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائے وہاں منیر نیازی کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی تراجم کے تین مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، سفردی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار، پنجابی شاعری کی کلیات اور ارود شاعری کی کلیات منیر شامل ہیں۔
منیر نیازی کی غزل کئی دکھوں سے تعمیر ہوئی اس میں محبت کے دکھ بھی ہیں اور سماجی در د بھی ۔ کہیں کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہاں سماج کے بہت سے اندرونی دکھ محبت کے دکھ میں مل گئے ہیں۔ اور یہ دونوں دکھ مل کر کوئی اکائی تشکیل دے رہے ہیں۔

اُس آخری نظر میں عجب درد تھا منیر
جانے  کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا
٭٭٭
صبح  کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی  سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

منیر کے ہاں دو الفاظ بہت زیادہ ہیں ایک شہر اور ایک سفر ۔ ایسا لگتا ہے کہ منیر کی غزل کی غزل کا مسافر اندھیرے میں کھو گیا ہے ۔ اور شہر کے سارے مناظر اندھیرے میں کھو گئے ہیں ۔ اس لیے ا ن کے ہاں سایے اور دھند کی کیفیت ملتی ہے۔ ا ن کے ہاں تنہائی اور خوف کی فضاموجود ہے۔ جو ا س دور کے نئے ماحول کو ظاہر کرتی ہے۔

ملتی  نہیں  پناہ  ہمیں  جس  زمین پر
اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہیے

منیر نیازی لگی لپٹی بغیر بات کرنے کے عادی تھے اور شاید وہ لوگوں سے اور لوگ ان سے شاکی رہتے تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے ہم  عصروں کے بارے میں کہا تھا بعض ہم عصر شعرا نے سیاسی وابستگیوں کی بنا پر اعلیٰ سرکاری عہدے بھی حاصل کئے اور یوں شعر و ادب سے متعلق لوگوں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
اپنے شاعری میں خوف، بھوتوں اور چڑیلوں کے ذکر کے بارے میں خود انکا کہنا ہے خوف زندگانی کاایک اہم عنصر ہے اور اس سے انکار زندگی کی ایک بڑی حقیقت سے انکار ہے۔
منیر کہتے تھے کہ میرا قاری او ر میں مختلف فریکوئنسی پر ہیں اور انہی رویوں سے دل برداشتہ ہو کر میںنے شاعری ترک کر دی ہے اور لوگوں سے ملنا جلنا بند کر دیا ہے۔ اس کمرے کو جہاں منیر اپنا وقت مطالعہ میں گزارتے وہ ڈیرہ شاہ منیر کہتے تھے اور آج یہ ڈیرہ اپنے مکین کے بغیر افسردہ ہے۔

صفدر ھمٰدانی۔لندن

واپسي

 

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ