اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں

المدد یا خُدا۔المدد یا نبی۔المدد یا علی سب کے مشکل کُشا
صفدر ھمدانی

اس برس اک عجب درد اور دُکھ کے ماحول میں
ہم مناتے ہیں سارے زمانوں کے مشکل کُشا کی ولادت کا دن
وہ علیءولی سب کے حاجت روا
ساری دنیا کے مظلوم لوگوں کے حق میں بلند جس کی
ہر زمانے میں نصرت کی اپنی صدا
وہ علی جس کی آمد پہ کعبے نے جُھک کر کہا
مرحبا مرحبا
دینِ اسلام کی آپ ہی کی شجاعت میں مضمر بقا
اک عجب درد اور دُکھ کے ماحول میں
ہم مناتے ہیں اُس سب زمانوں کے مشکل کُشا کی ولادت کا دن
۔۔۔۔۔
ارضِ لبنان پر
حذبِ شیطان نے
اسقدر بربریت سے دھجیاں اُڑائی ہیں انسانیت کے قوانین کی
جس طرح اک نئی کربلا
ارضِ لبنان سے دے رہی ہے صدا
المدد یا خُدا۔المدد یا نبی۔المدد یا علی سب کے مشکل کُشا، سب کے حاجت روا
۔۔۔۔۔۔۔۔
چاروں جانب فضا میں برستی ہوئی آگ اور خون کی ایسی بارش ہے جس میں
زندگی کی کوئی ایک رمق بھی نہیں
چار سو پھیلی تاریکیوں میں کہیں اک چمک بھی نہیں
آسماں سے وہ بارود برسا کہ ساری زمیں جل گئی
جسم معصوم بچوں کے ٹکڑے ہوئے اور مٹی میں پَل بھر میں مل کر فنا ہو گئے
حذبِ شیطان نے
حذبِ ایمان پر پوری طاقت سے کچھ ایسا حملہ کیا
جس پہ فرعون،نمرود،شداد سب خود بھی حیران ہیں
ابرہہ عہدِ حاضر کا اک بار پھر
آہنی،آتشیں ہاتھیوں سے
ارضِ کانا پہ ہے حملہ آور ہوا
یا حسین ابنِ حیدر ترے ماننے والوں پر ہے عجب ظلم کی انتہا
ریزہ ریزہ ہوئے جسم جیسے فضا میں کہیں کھو گئے
بھوک سے بلبلاتے ہوئے کتنے معصوم ماؤں کی گودوں میں اپنا لہو پی کے ہیں سو گئے
ابرہہ عہدِ حاضر کا اس بار تنہا نہیں
ساتھ اُس کے بڑی طاقتوں کے خدایانِ شر بھی تو ہیں
ہاں مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس بار شاید کوئی
سورئہ فیل نازل نہ ہو
اور اس کا سبب
ہم مسلمانوں کی بے حسی کے سوا اور کچھ بھی نہیں
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے ہمارے گھروں کو تباہ کر دیا
آسماں سر سے پاؤں سے کھینچ لی ہے زمیں
شہر اُجڑے ہوئے
گرد اوڑھے ہوئے سو رہے ہیں مکیں
عالمِ کفر و شر تو ہے جاگا ہوا
حاکمینِ عرب اور عجم جیسے سوئے ہوئے
اک عجب بے حسی کی ہے یہ انتہا
حذبِ شیطان کے آتشیں،آہنی ہاتھیوں نے جنہیں ریزہ ریزہ کیا
اُن پہ ماتم کُناں
اُن پہ سینہ زناں
اُن پہ نوحہ کُناں کوئی بھی تو نہیں
بِک گئے ہیں قلم اور قلم کار خفتہ ضمیری کی میت اٹھائے ہوئے
اور مسلمان حاکم محلات میں سہم کر چھُپ گئے
ایسے حالات میں بھی ہیں اپنے حرم کو سجائے ہوئے
اے عرب اور عجم کے مسلمان حاکمو
ارضِ بغداد کی موت کے بعد اب تمہیں
مرگِ لبنان پر بھی مبارک کہیں
تم نے اپنے ہی دین اور تہذیب کا جس طرح سے جنازہ نکالاہے اُس پر مبارک تمہیں
تم نے اپنی شجاعت و جرآت کے زرین ابواب کو
جس طرح پارہ پارہ کیا
اُس پہ بھی تم کو تحسین ہو
اور ابد تک تمہارے ان عشرت کدوں میں اُجالا رہے
سب جہانوں میں تمہاری اس بے ضمیری کا بھی بول بالا رہے
بے ضمیری کے نشے میں مدہوش حاکمینِ عرب اور عجم کو ہمارا سلام
ایسے فرمانرواؤں کی زریں عباؤں قباؤں پہ جانیں نثار
جن کو ہے صرف اپنی حکومت سے پیار
بصرہ و کوفہ و شہرِ بغداد کے بعد اب آپ کو
ہو مبارک کہ بیروت بھی لُٹ چکا
ارضِ لبنان بھی حذبِ شیطان کی ملکیت بن گئی
بالبیک کے ہر اک گھر پہ اب موت کا راج ہے
اور کانا کی ساری فضا
خون اور بارود کی بو میں ہے جس طرح سے نہائی ہوئی
اور یہ عزت مآب حکمراں
سامراجی خداؤں کے پٹھو یہ فرمانروا
قحبہ خانوں میں مدہوش سوئے ہوئے
پاسبانِ حرم
مصلحت کی قبا کو منافق بدن پہ سجائے ہوئے
تاج اور تخت کے عشق میں بے ایماں،دوغلے حکمراں
چند دن اور ہیں
دیکھنا ہوں گے یہ سب بھی عبرت نشاں
کعبئہ دل میں اب کوئی دے تو اذاں
یا امامِ زماں
العجل العجل۔۔۔نعرہِ کشتگاں
المدد یا خُدا۔۔۔خالقِ دو جہاں
المدد یا نبی۔۔۔قبلہِ عاشقاں
المدد یا علی
پھر سے مشکل میں ہے عاشقِ مصطفیٰ
المدد یا علی سب کے مشکل کُشا
سب کے حاجت روا

اس نظم کو جناب صفدر ھمدانی کی آواز میں سننے کے لیئے  یہاں کلک کریں۔

 

واپسي

 

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ