اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں

اک ساز جو خاموش ہوا! نصرت فتح علی کی یاد میں
امجد شیخ

نصرت فتح علی خان کو ہم سے بچھڑے 9 سال ہونے کو آئے۔ 16 اگست 1997 کو نصرت ہم سے ہمیشہ کے لیئے رخصت ہوئے ۔ مگر موسیقی کا جو خزانہ نصرت ہمارے لیئے چھوڑ گئے ہیں وہ اتنا ہے کہ انسان ساری زندگی بھی سنے تو بھی دل نہ بھرے۔ خان صاحب 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد جناب فتح علی خان صاحب اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ موسیقی کے گھرانے میں آنکھ کھولنے کی وجہ سر اور راگنیاں آپ کے گھٹی میں پڑیں تھی۔ کم عمری میں ہی جناب فتح علی خان صاحب نے نصرت کو بطور گلوکار نامنظور کرتے ہوئے طبلہ سکھانا شروع کر دیا تھا کہ نصرت کی آواز اتنی اچھی نہیں کہ یہ کبھی لیڈ سنگر بن سکے گا ۔ بہرحال نصرت مرحوم کی والدہ کے احتجاج پر نصرت فتح علی کو موسیقی کی تعلیم دی گئی اور نصرت اپنے شوق ، لگن محنت اور صلاحیتوں کے با عث اُس مقام پر پہنچے کہ جس پر آج تک کوئی دوسرا قوال نہیں پہنچ سکا۔ نصرت کے فن کو پوری طرح سمجھنے کے لیئے کچھ بنیادی باتیں قوالی کے بارے میں علم ہونا ضروری ہیں۔

قوالی اصل میں ہے کیا؟ اسلامی نقطہ نظر سے چشتیہ سلسلہ کا یہ طریق ہے کہ ایک خاص لے اور تال پر رقص کرنے سے انسان میں خالص پن آتا ہے، اور اگر انسان اس روحانی کلام میں ڈوب جائے تو پھر وہ کسی اور ہی دُنیا میں ہوتا ہے۔ ہمارے برِصغیر میں قوالی کے موجد امیر خسرو کو کہا جا سکتا ہے اور انہوں نے قوالی میں کئی نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ آج کی قوال پارٹی میں عام طور پر ایک مرکزی گلوکار اور ایک یا دو ثانوی گلوکار ہوتے ہیں۔ ایک شاگرد گلوکار بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ روائتی قوالی میں دو ہارمونیم ہوتے ہیں۔ایک طبلہ نواز اور کبھی کبھی ایک ڈھولی بھی شامل ہوتا ہے۔ پانچ یا سات کورس گانے والے اور تال دینے والے موجود ہوتے ہیں۔ مرکزی قوال الفاظ کی تکرار سے اور ایک ہی شعر کو مختلف انداز سے گا کر ایک تاثر قائم کرتا ہے اور لوگ بے خود ہو جاتے ہیں۔
نصرت فتح علی نے اپنے وقت کے مشہور قوالوں کی موجودگی میں اپنا ایک الگ انداز بنایا اور اس میں بے انتہا کامیابی حاصل کی، نصرت کے ووکل رینج کسی بھی انسان سے ذیادہ تھی، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کسی بھی ساز سے زیادہ تھی، آواز کو پلٹنے اور تاثر بدلنے میں مختلف ٹونز کا استعمال نصرت کا خاصہ تھی۔ نصرت کی قوالی سنتے ہوئے اکثر یہ محسوس ہوتا تھا کہ نصرت بے خودی میں گا رہے ہیں اور اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں ۔ اس کا اثر ماحول پر بہت ہی ذیادہ ہوتا اور لوگ بھی اس بے خودی میں نصرت کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ در اصل نصرت ایک سچے فنکار تھے۔ اگر آپ ان کی ویڈیوز یا قوالی کی ریکارڈنگزکو غور سے سنیے تو صاف محسوس ہو گا کہ یہ ایک فنکار مجمع میں ایک تاثر ابھارنے کے لیئے ایک جوش بھرنے کے لیئے بے خودی کا تاثر انتی کامیابی سے دے رہا ہے کہ اس پر حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔

میرا نصرت سے تعارف بھی عجیب حالات میں ہوا! یہ سن 95 کی بات ہے کہ میں مغربی موسیقی سے گھبرایا ایک روز ایک نائٹ کلب سے باہر آیا تو نہ جانے کیوں دل نے کہا کہ بس! ایک دم کھوج ہوئی کی بس اپنی موسیقی کو سننا ہے۔ سب سے پہلے میں نے مہدی حسن خان صاحب کی کچھ غزلیات سنیں اچھی لگیں۔ مگر کچھ مزا سا نہیں آیا۔ میں اصل میں غزل کو سننے اور سمجھنے کے قابل ہی نہ تھا(قابل تو اب بھی نہیں ہوں۔ مگر مہدی حسن صاحب کو بہت شوق سے سنتا ہوں)۔ انہیں ایام میں ایک مقامی میوزک سٹور پر نصرت فتح علی کا ایک البم نائٹ سانگ نظر آیا خرید لیا۔ یہ البم میری زندگی کا تقریباّ حصہ ہی بن گیا۔ کیونکہ نصرت مرحوم نے اسے مغربی سازوں اور مختلف انداز میں گایا تھا تو یہ مجھے زیادہ پسند آیا۔ نصرت کے اس البم کے بعد میں نے ان کے کئی دوسرے پاپ البمز سُنے، اور پھر غزلیات اور ہوتے ہوتے قوالی۔ نصرت کی قوالی سننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ نصرت کا اصل فن تو اب میرے سامنے آیا ہے۔وہ دن ہے اور آج کا دن ہے نصرت فتح علی کی قوالی میری روز مرہ کی زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ نصرت کی کئی قوالیاں ایسی ہیں کہ انسان کو بکھیر کر رکھ دیں۔ روح جسم کا ساتھ چھوڑ دے اور انسان اپنے ہی بدن سے نکل کر کسی دوسری دُنیا کی سیر کر آئے ۔
نصرت گینز بکس میں درج ہیں بطور قوال سنگر کیونکہ ان کے البمز کی تعداد 125 ہے جو کہ کسی بھی قوال کے سب سے زیادہ المبمز ہیں۔ نصرت کے ہاں صرف تعداد ہی نہیں ہے معیار کا بھی بہت خیال رکھا گیا ہے، نصرت کے مشہور گانوں کی تعداد بھی سینکڑوں ہزاورں میں بنتی ہے۔ نی میں جانا جوگی دے نال، آنکھ اُٹھی محبت نے انگڑائی لی، ہیرے نی رانجھا جوگی ہوگیا، پھروں ڈھونڈتا مےکدہ توبہ توبہ، پیار اکھیاں دے بوہے تے کھلو کے ، تم ایک گورکھ دھندہ ہو اور حق علی علی جیسی بے شمار قوالیاں نصرت کے اچھوتے پن کا ثبوت ہیں۔

غزل، پاپ ، کافی، بھجن، گیت، کلاسیکل یا نیم کلاسیکل نصرت نے جو بھی گیا بے مثال گایا ہے۔ نصرت فتح علی خان وہ ساز تھا جو اب خاموش ہے۔ بطور جانشیں پیدائش سے ہی راحت کو آپ نے منتخب کیا اور سکھایا۔ میرے خیال میں راحت فتح علی خان بہت بڑے فنکار ہیں، مگر ان کا مقابلہ نصرت فتح علی سے کرنا ان کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ مغربی میڈیا نے نصرت کو وائس آف ہیون کا خطاب دیا تھا۔ اور واقعی ان کی آواز جنت کی آواز تھی، اور مجھے یقین ہے کہ جب بھی کسی بزرگ کا عرس جنتِ مبارک میں برپا ہوتا ہوگا تو قوالِ شہنشاہ ، وائس آف ہیون اپنے فن کا جادو جگاتے ہونگے اور اہلِ جنت جھوم جھوم جاتے ہو ں گے۔
نصرت فتح علی 95 میں شکاگو تشریف لائے تو ہمارے محترم افتخار نسیم صاحب کے ہاں مہمان ٹہرے، اس ایک بہت ہی نجی محفل سے نصرت صاحب کی 4 غزلیں پیشِ خدمت ہیں۔ نصرت مرحوم ہارمونیم بجا رہے ہیں اور گا رہے ہیں۔ ایک گھریلو ٹیپ ریکارڈ پر یہ ریکارڈنگ ہوئی ہے یعنی فنکار، اس کا ساز اور اسے محفوظ کرنے کا بنیادی آلہ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آج کل کے بیشتر گلوکار صرف اور صرف ٹیکنالوجی کے سہارے گلوکار ہیں، مگر ان چاروں غزلوں میں آپ کو محسوس ہوگا کہ اگر فنکار سچا ہو تو اسکی آواز کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

موسیقی اور خصوصی تصاویر کے لیئےہم جناب افتخار نسیم صاحب  کے انتہائی مشکور ہیں۔

واپسي

 

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ