اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں

خصوصي تحريريں

 کرکٹ کے معروف کھلاڑی وسیم راجہ کا انتقال
وہ کرکٹ کھیلتے ہوئے گراؤنڈ میں ہی انتقال کر گئے۔ صفدر ھمدانی

پاکستان کی کرکٹ کے سابق کھلاڑی مایہ ناز آل راؤنڈ وسیم حسن راجہ بکنگھم شائر کے شہر ہائی وِکمب میں کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے 23 اگست 2006 کودل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں انکی عمر 54 برس تھی۔وہ 3 جولائی 1952 میں ملتان میں پیدا ہوئے تھے۔وسیم حسن راجہ تین جولائی انیس سو باون کو پیدا ہوئے تھے اور ستر اور اسی کے عشرے میں کرکٹ میں انہوں نے پاکستان کی نمائیندگی کی تھی۔
انہوں نے اپنے کرکٹ کیرئر میں ستاون ٹیسٹ اور چون ایک روزہ میچ کھیلے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے چار سنچریاں اور اٹھارہ نصف سنچریاں سکور کی کیں۔ٹیسٹ میں انکا سب سے زیادہ سکور 125 تھا اور ایک روزہ میچوں میں انفرادی زیادہ سکور انہوں نے61 بنایا تھا اور25 وکٹیں لی تھیں۔57 ٹیسٹ میچوں میں بیانوے اننگز کھیلیں اور انیس مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے اور اس دوران انہوں نے2821سکور کیا جسمیں27 چھکے شامل ہیں۔54 ایک روزہ میچوں میں45 اننگز کھیلیں اوردس مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے اور اس دوران786 سکور کیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انکے میچوں کی تعداد250 اور سکور11434 ہے اور اسمیں انفرادی سب سے زیادہ سکور165 ہے۔
وسیم راجہ نے پاکستان کی طرف سے پہلا ٹیسٹ نیوزی لینڈ کے خلاف دو فروری انیس سو تہتر کو ولنگٹن میں کھیلا تھا اور انکا آخری ٹیسٹ بھی نیوزی لینڈ کے خلاف پچیس جنوری انیس سو پچاسی میں آکلینڈ میں تھا۔ پہلا ایک روزہ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے گیارہ فروری انیس سو تہتر کو کرائسٹ چرچ میں کھیلا اور آخری ایک روزہ میچ بھارت کے خلاف میلبورن میں دس نارچ انیس سو پچاسی میں کھیلا۔
وسیم حسن راجہ کی کرکٹ کا عہد انیس سے بہتر سے انیس سو ستاسی تک تھا۔ کرکٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم حسن راجہ سرے میں ایک کلب میچ میں فیلڈنگ کر رہے تھے جب ان کو دل کا دورہ پڑا اور وہ اس کی تاب نہ لاتے ہوئے گراؤنڈ میں ہی انتقال کر گئے۔سرے کرکٹ کاؤنٹی کے ترجمان کے مطابق وسیم راجہ نے میچ کے دوران سلپ میں کھڑے اپنےساتھی فیلڈروں سے سر میں چکر آنے کی شکایت کی اور انکے ساتھی کھلاڑی ابھی انہیںمیدان سے باہر لے جا رہے تھے کہ باؤنڈری لائن کے قریب ہی انکی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
کوئی دس سال پہلے بھی وہ انگلینڈ میں ایک کار حادثے میں بری طرح زخمی ہو گئے تھے تاہم وہ صحت یاب ہونے کےبعد سے کرکٹ کھیل رہے تھے۔
آل راونڈر کے طور پر وہ پاکستانی ٹیم کے لیئے ایک اثاثہ تھے۔ وہ گند بازی میں دائیں ہاتھ سے لیگ سپن کراتے تھے اور اسی گیند بازی میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اکاون کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بلے بازی میں بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے مڈل آڈر بلے باز تھےاورانہوں نے کئی مرتبہ پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز بھی کیا گویا وہ پاکستانی ٹیم کے افتتاحی بلے باز بھی رہے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں ستاون ٹیسٹ میچ کھیل کر انہوں نےچھتیس عشاریہ ایک چھ کی اوسط سے دو ہزار دوسو اکاسی سکور کیا جس میں چار سنچریاں اور اٹھارہ نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔
وسیم حسن راجہ نے چؤن ایک روزہ میچ بھی کھیلے ۔ ان کا آخری ٹیسٹ بھی نیوزی لینڈ کے خلاف انیس سو پچاسی میں آکلینڈ میں تھا۔ کچھ عرصے کے لیئے وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی رہے اور آئی سی سی کے ریفری کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
وسیم حسن راجہ کا کرکٹ کی دنیا میں سب سے بڑا کارنامہ انیس سوچھہتر ستتر میں ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران میں تھا جب انہوں نے اس سیریز میں کرکٹ کی تاریخ کے تباہ کن فاسٹ بالنگ اٹیک کے خلاف ستاون عشاریہ چار کی اوسط سے پانچ سو سترہ رن بنائے۔
وسیم راجہ نے برطانیہ میں ہی ایک انگریز خاتون سے شادی کی تھی اور انکی یہ انگریز اہلیہ اور وہ خود بھی سرے کاونٹی کے ایک سکول میں پڑھاتے تھے۔ ان کے دونوں بیٹے بھی کرکٹ کے کھلاڑی ہیں ۔وسیم راجہ کے والد راجہ سلیم اختر پاکستان کے معروف سول سروس کے افسر تھے جنکا دو سال قبل22 اپریل 2004 میں 74 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا اور وہ بھی کرکٹ کے شوقین اور کھلاڑی تھے۔ دیگر اہم مناصب کے علاوہ راجہ سلیم اختتر لاہور کے کمشنر بھی رہے تھے ۔وسیم کے چھوٹے بھائی رمیض راجہ پاکستان کے ٹیسٹ کھلاڑی اور کپتان رہے ہیں اور آجکل کرکٹ کے شائقین انہیں مختلف ٹی وی چینل پر کرکٹ کے مبصر کے طور پر دیکھتے ہیں۔رمیض راجہ ان دنوں انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ سیریز پر کمٹری کے سلسلے میں لندن میں ہی ہیں اور انہوں نے ہی اپنے بڑے بھائی وسیم راجہ کے انتقال کی تصدیق کی ہے

(صفدر ھمدانی، لندن)
۔

واپسي

 

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ