Updata at Mehfil e Mushiara

What's New

What's coming

خصوصي تحريريں

طوسی کا طوطا
تحرير کرنل محمد خان

مسٹر ایف اے طوسی ہمارے محلے کے سب سے سینئر مکین ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے بہت بڑے افسر تھے۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں مگر وہی دیرینہ اکڑ باقی ہے۔ دراصل آپ کا تعلق ایک ایسے محکمے سے تھا جس ميں اکڑ اور پھکّڑ کا ملکہ اہلیت کے خانے ميں درج کیا جاتا ہے۔ آج کل محلے کے دوسرے لوگوں سے نہ صرف جسمانی بلکہ زبانی فاصلے پر بھی رہتے ہیں۔ اگر کبھی زبان کا استعمال کرنا ہی پڑے تو بڑے سرپرستانہ لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کسی فرعون کو غریب  پروری کا دورہ پڑا ہو،  اور اگر سچ مچ جلال میں آجائیں تو پھر دو مذکورہ بالا خدا داد اہلیتوں کا کچھ اس انداز سے مظاہرہ کرتے ہیں جیسے سارے محلے کو "اندر" کر دیں گے شنید ہے کہ اپنے گھر میں نوکروں کے علاوہ بےچاری بیگم کو بھی مستقل طور پر اندر کیا ہوا ہے۔
میں ایک سکول میں ٹیچر ہوں۔ تعلیم کے لحاظ سے تو طوسی صاحب مجھ سے خاصے پیچھے ہیں لیکن عہدے میں میلوں آگے ہیں یا تھے۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میں بہت حلیم اور میٹھی طبعیت کا مالک ہوں لیکن میں فرعون بھی نہیں ہوں ہاں فرعونوں سے ٹکر لینے ميں مزا آتا ہے اور حتیٰ المقدور لے لیتا ہوں۔
محلے داری کی وجہ سے طوسی صاحب اور میں ایک دوسرے کو جانتے ضرور ہیں لیکن کبھی ان کے ساتھ خندہ پیشانی بلکہ سادہ پیشانی کے ساتھ بھی ہمکلامی کا اتفاق نہیں ہوا۔ مگر پچھلے دنوں کرنا خدا کا کیا ہوا کہ طوسی صاحب سے سچ مچ ٹکر ہو گئی۔ جسمانی نہیں قلمی! اور ٹکر کا باعث تھا ایک طوطا! یا یوں کہ لیں طوسی کا طوطا۔
ایک پیلے رنگ کا باتونی سا طوطا جو خدا جانے کن حالات میں، ایک دن اپنے مالک کے گھر سے نکلا اور اُڑتا اُڑتا میرے ہاں مہمان آٹھرا۔ اس پر میں نے طوسی صاحب کو ایک خط لکھا۔

محترم طوسی صاحب اسلام وعلیکم

اس خط کا مدعا آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے۔ کیا آپ کا کوئی طوطا گم ہوگیا ہے؟ سوال پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ آج دوپہر کو طوطے کی نسل کا ایک پرندہ میری خواب گاہ کی کھلی کھڑکی سے اچانک میرے گھرميں داخل ہوگیا، بلکل برضاورغبت۔ کیونکہ ہم لوگوں نے اسے کوئی دعوت دی تھی نہ ترغیب۔ اور اب وہ کمرے کی انگھيٹي پر اس بےتکلفی سے بیٹھا ہےجیسے یہ اسی کا گھر ہو، مسلسل باتیں کئے جا رہا ہے جو ابھی پورے طور پر ہمارے پلے نہں پڑتیں۔
مجھے شک سا ہے کہ طوطا آپ کا ہے لیکن ظاہر ہےمحض شک کی بنا پر میں اسے آپ کے حوالے نہیں کر سکتا۔ سو اگر آپ نے واقعی کوئی طوطا کھویا ہےتو براہِ کرم اس کے حلیے سے آگاہ کریں میں انشااللہ پوری احتیاط سے حلئے کاطوطے سے مقابلہ کروں گا، اگرحلیہ سو فیصد درست نکلا تو اپنی پہلی فرصت میں طوطا آپ کو لوٹا دوں گا۔ ہاں اگر طوطے نے اخلاقی وجوہ کی بنا پر واپس جانے میں مزاحمت کی تو اس صورت میں آپ کو طوطے کے جذبات اور اعتراضات سے آگاہ کر دوں گا۔

مخلص خادم حسین

طوسی صاحب نے فوراً جواب دیا۔

!ماسٹر خادم حسین
تمہارے احمقانہ خط کے جواب میں میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا طوطا في الواقہ گم ہو گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ خط لکھتے وقت تمھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ طوطا میرا ہی ہے۔ یہ بچہ تھا کہ میرے گھر میں آیا اور تین سال سے میرا ساتھی ہے۔ ان حالات میں شرافت کا تقاضا یہ تھا کہ تم اسے غیر مشروط طور پرمیرے حوالے کر دیتے اور معاملہ ختم ہو جاتا مگر معلوم ہوتا ہے تم ماسٹر لوگ اپنی اہمیت جتانے کا موقع ڈھونڈتے رہتے ہو۔ یہ گھٹیا حرکت ہے۔
اب تمہارے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ حامل ہزا کو فی الفور طوطا دے دو اور آئندہ مجھے خط لکھنے کی کوشیش نہ کرو۔
نوٹ۔ تم نے طوطے کا حلیہ پوچھا ہے۔ طوطے کا حلیہ کیا ہوتا ہے؟ بس طوطا ہے اور پیلے رنگ کا ہے

ایف۔اے۔طوسی

قارئین ملاحظہ فرمایا آپ نے مسٹر طوسی کا طرزِتخاطب اور ان کی جھنجھلاہٹ؟ اب میں ہزار
 خاکسار سہی لیکن عرض کیا ہے نا کہ فرعونوں سے ٹکر لینے میں مجھے مزا آتا ہے مگر کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر سو عرض کیا۔

جناب طوسی صاحب اسلام وعلیکم

آپ کا نامہ ملا، جس کے ابتدائی الفاظ نے تو مجھے آپ کی شرافت اور شائستگی کا گرویدہ کر لیا ہے۔ اللہ آپ کو لمبی زندگی دے۔۔۔۔ لیکن اگر مجھے تبصرے کے اجازت دیں تو عرض کروں گا کہ ہرچند کہ آپ کی تیکنیک بے عیب ہے اور آپ کے سابقہ محکمے کی روایات کی آئینہ دار ہے تاہم میرے خط کے جواب کے طور پر آپ کا گرامی نامہ زرا بے کار ہے۔ موضوع زیرِ بحث کے پیشِ نظر ضرورت اس بات کی تھی کہ شرافت پر لیکچر دینے کے بجائے (یا علاوہ) اپنے طوطے کا مفصل حلیہ بیان فرماتے۔ طوطے کا محض بیرونی رنگ بتا دینا کافی نہیں۔ فطرت نے یہ رنگ آپ کے طوطے کے علاوہ بے شمار دوسرے طوطوں کو بھی عطا کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ اپنے طوطے کی عادات پر روشنی ڈالتے۔ اس کے کمالات کا ذکر کرتے اور اسکے پروں کے رنگ کے بجائے اس کی گفتار کا ڈھنگ بیان فرماتے۔

مخلص خادم حسین

اس خط سے طوسی صاحب زرا ذیادہ سیخ پا ہو گئے۔ جواب آیا۔

       ماسٹر خادم حسین۔
خدا تمھیں غارت کرے تم جانتے ہو کہ طوطا بلا شبہ میرا ہے مگر تم نے خواہ مخواہ حلئيے کی رٹ لگا رکھی ہے۔ بتا تو دیا ہے کہ اس کا رنگ پیلا ہے ۔ کم گو ہے اور جیسا کہ اس نسل کے طوطوں کا دستور ہے، اپنے سر کو ایک طرف لٹکا کر رکھتا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا اس سےزیادہ حلیہ کیا ہوتا ہے۔ بہر حال اب حلیہ بھول جاؤ اور طوطا فی الفور واپس کر دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں قانونی کاروائی پر مجبور ہو جاؤں گا۔ شاید تمھیں علم نہیں کہ کسی دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کتنا بڑا جرم ہے۔ یہ علم تو تمہیں جلد ہی ہوجائے گا۔۔۔۔ تم شاید بھول رہے ہو میرا نام طوسی ہے۔۔۔ نوابزادہ عالم طوسی

ایف۔اے۔طوسی

میرا جواب تھا

جناب طوسی صاحب اسلام و علیکم
جنابِ والا کا الٹی میٹم ملا۔ وہ اپنی جگہ درست مگر مجھے مکرر عرض کرنے کی اجازت دیں کہ آپ کا بیان کردہ حلیہ ناکافی ہے۔ ناکافی ہی نہیں نا درست بھی ہے۔ کیونکہ یہ طوطا کسی عنوان سے کم گو نہیں کہلا سکتا ۔ بے حد بیسار گو ہے۔ اور جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں۔ فحش گو بھی ہے۔ جیسا کہ میں بار بار عرض کر چکا ہوں اگر آپ اپنے طوطے کے چند پسندیدہ الفاظ یا جملے بتا دیتے تو اس کی ملکیت کا تعین کرنے میں بے حد ممدثابت ہوتے۔ مجھے اس سے ہرگز انکار نہیں کہ یہ رنگ کا پیلا ہے وار سر لٹکا کر رکھتا ہے۔ لیکن اکثر پیلے طوطوں کا سر تھامنے کا یہی انداز ہے۔ شناخت کے لئےفیصلہ کن چیز طوطے کا نمونہ کلام ہی ہے اور کچھ نہیں۔
باقی رہی آپ کی عدالت میں جانے کی دھمکی تو میری کیا مجال کہ آپ کو اس دربار میں جانے سے روکوں۔ صرف ایک بات کا خیال رکھئے گا کہ اگر عدالت نے طوطے کو بھی شہادت کے لئے طلب کر لیا تواس کی شہادت بند کمرے میں دلوایے گا ورنہ مجھے خوف ہے کہ اس کی فصاحتِ دشنام اس کے سکھانے والے کو فحاشی پھیلانے کے جرم میں پکڑوا سکتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ طوطے کے آموزگار آپ ہی ہیں وار شاید یہ عرض کردینا بھی مناسب ہوگا کہ آج کل فحاشی پھیلانے کی سزامیں کوڑے وغیرہ بھی شامل ہیں۔وَمَا عَلَینَا اِلّا البَلَاغ آپ نے اپنے نامہ گرامی کی ابتدا ایک دعائیہ جملے سے کی ہے وار خدا تعالیٰ کو مجھے غارت کرنے کی زحمت دی ہے۔ خدا کا شکر ہے آپ نے معاملہ اللہ تعالٰی پر چھوڑ دیا ہے جو عادل و قادر ہے  اورمحض کسی کی لگائی بجھائی پر غریبوں کو غارت نہیں کردیتا ورنہ زیادہ ممکن تو یہ تھا کہ یہ ڈیوٹی آپ کسی قابلِ اعتماد غنڈے کے ذمے لگا دیتے۔ اس صورت میں آپ خاصے مثبت نتائج کی توقع رکھ سکتے تھے۔ 
آخر میں مجھے یہ علم تو تھا کہ آپ کا اسمِ گرامی طوسی ہےاور میں اسے بلکل نہیں بھولا تھا، البتہ یہ کہ حضور نوابزادہ بھی ہیں، میرے علم میں ایک ہیبت ناک اضافہ ہے۔ اللہ تعالٰی ناگہانہ بلاؤں سے محفوظ رکھے، آپ کو بھی اور مجھے بھی۔

مخلص خادم حسین

طوسی صاحب نے جواب میں لکھا

ماسٹر خادم حسین 
تم میرے اندازے سے بھی زیادہ پاجی نکلے ہو۔ ایک معمولی سکول ماسٹر ہوتے ہوئے یہ گستاخی کہ میرے طوطے کو بدزبانی کا مجرم ٹہرا رہے ہو۔ اگریہ ٹھیک ہے تو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ میرا طوطا کئی روز سے تمہاری صحبت میں رہ رہا ہے ورنہ جب تک یہ میرے گھر میں تھا، شیریں گفتاری کا نمونہ تھا جیسے اس کی زبان کوثر و تسنیم میں دھلی ہو۔ آخر اس کی تمام تر تربیت یا خود میں نے کی ہے یا میری بیگم مے۔ دریں حالات یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ میرا طوطا موجودہ صحبت سے بعجلت تمام الگ کر دیا جائے۔ چناچہ کل صبح تک تم نے طوطا واپس نہ کیا تو اگلی دفعہ تمہیں خط کے بجائے عدالت کے سمن ملیں گے۔ مخلص خادم حسین

ایف۔اے۔طوسی

جناب طوسی صاحب اسلام و علیکم

بےشک ایک سکول ماسٹر کے مقابلے میں آپ ایک بہت بڑے (سابق) افسر ہیں لہذا آپ کا فرمودہ سر آنکھوں پر، لیکن ایک اختلاف کی اجازت چاہتا ہوں اس طوطے کی زبان اگر کسی پانی میں دھلی ہے تو یقیناً کوثرو تسنیم نہیں ہو سکتے زیادہ ممکن یہ ہے اس نے آپ سے آنکھ بچا کر کسی گٹر میں چونچ تر کر لی ہو۔ رہا میری صحبت کا اثر تو قبلہ آپ اپنے ساٹھ سالہ تجربے سے یقیناً جانتے ہوں گے کہ بوڑھے طوطے(بلکہ انسان بھی) سیکھا نہیں کرتے۔ اگر یہ آپ ہی کا طوطا ہے تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس نے اپنی تمام تر طالبِ علمی کا زمانہ آپ اور آپ کی بیگم محترمہ کے زیرِ سایہ گزاراہے اور گھر سے مکعمل فارغ التحصیل ہو کر نکلا ہے۔
رہی صحبت کی بات تو یقین جانیے اگر میں چند دن اور اس طوطے کی صحبت میں رہا تو میں محکمہ پولیس کے علاوہ کسی دوسری جگہ ملازمت کے قابل نہ رہوں گا۔ دوسرے لفظوں میں میرا موجودہ روزگار مجھ سے چھن جائے گا۔ ان حالات ميں اگر کل تک آپ اس طوطے کی ملکیت کا کوئی حتمی ثبوت بہم نہیں پہنچاتے تو میں اسے دارلامان کے حوالے کر دوں گا۔ وسلام

مخلص خادم حسین

جواب آیا۔

ماسٹر خادم حسین
مجھے ضرورت نہ تھی کہ تمہارے آخری بہودہ خط کا جواب دیتا کیونکہ میں یہ معاملہ اپنے وکیل کے سپرد کر چکا ہوں۔ میں تمہیں صرف ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ تم ایک نہایت بدتمیز، بے ادب اور گستاخ آدمی ہو، آدمی کہاں ماسٹر ہو چند ٹکے کے۔

ایف۔اے۔طوسی


قارئین، آپ شاید حیران ہونگے لیکن اگلی صبح میں نے طوطا طوسی صاحب کو واپس کردیا۔ کیا میں نے طوسی صاحب کے خوف سے ایسا کیا؟یا عدالت کے ڈر سے؟ آپ ذرا ذیل کا رقعہ پڑھیں جو میں نے طوطے کے ہاتھ طوسی صاحب کو بھیجا۔ 

جناب طوسی صاحب
آپکا طوطا ارسالِ خدمت ہے۔ وہ ثبوت جو آپ بہم نہ پہنچا سکے، خود طوطے نے بہم پہنچا دیا ہے۔ اب مجھے کامل یقیں ہے کہ یہ طوطا آپ ہی کی ملکیت ہے اور اگر کسی اور کا ہے تو اس کا نام بھی طوسی ہوگا۔ لیکن جہاں تک مجھے علم ہے اس محترم کے مالک پورے شہر میں آپ ہی ہیں۔
ہوا یہ کہ ہم ناشتہ کر رہے تھے کہ حسبِ معمول طوطے نے ابتدائےکلام کی۔ اس سے پہلے وہ لفظ "تم" سے بات شروع کر تا تھا اور پھر ایک نہایت مرصّع تھانیدارانہ گالی سے آغازِ سخن کرتا تھا اور ہم چار و ناچار مزید کلام کی تاب نہ لاتے ہوئے ناشتہ اُٹھا کر باہر صحن میں نکل جاتےتھے لیکن آج خلافِ معمول اس کے منہ یا چونچ سے پہلا لفظ جو نکلا، وہ آپ کا اسمِ گرامی تھا اچانک بولا۔ "طوسی" اور پھر جملہ مکعمل کیا
"طوسی جائے۔۔۔۔۔۔ میں"
یہ خالی جگہ طوطے نے نہیں میں نے چھوڑی ہے۔ میری مجال نہیں کہ خالی جگہ کو اسی لفظ سے پر کردوں جسے طوطے نے بالتوتر اور بالاصرار پر کیا ہے۔ یہ گرامر کی رو سے ایک طرح کا دعائیہ جملہ تھا۔ جسے آپ کے نقطہ نگاہ سے بدعائیہ بھی کہا جاسکتا ہے۔۔۔ جس سے طوطے کا مدعا یہ تھا خدائے بزرگ و برتر آپ کو یہاں سے اُٹھا کر وہاں لے جائے۔ "یہاں سے وہاں تک" سے اس کی مراد یہ نہ تھی کہ اس محلے سے اس محلے میں۔ بلکہ اس دنیا سے اگلی قیام دنیا میں مستقل طور پر منتقل کر دےاور کم بخت نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اُس دنیا کی دو ممکنہ قیام گاہوں میں سے آپ کے لئے اس مقامِ نزول اجلال کی سفارش کی جو نسبتاً زیادہ گرم ہے، بہت زیادہ گرم! جیسا کہ میں عرض کر چُکا ہوں آپ کے طوطے نے اس مقام کا ٹیکنیکل نام بھی لیا جو ترنم کا ہم قافیہ ہے مگر اس کا دہرانا میری زبان کو زیب نہیں دیتا۔ آپ یقیناَ اپنے طوطے کا منشا سمجھ گئے ہوں گے۔ اور اس مقام کے صحیح نام اور اس کی آب و ہوا کا بھی آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا۔ یقین مانیں کہ میں نے طوطے کے منہ سے جب پہلی بار یہ دُعا سني تو اسے جھڑکا کہ اپنے مالک اور محسن کے لئے کوئی دُعامانگنا ہی ہے توکسی معتدل جگہ کی دُعا مانگو مگر وہ ضدی پرندہ اپنے موقف پر سختی سے قائم رہا اور اپنی دعا میں ترمیم کرنے سے یکسر انکار کرتا رہا۔
میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ یہ طوطے نے میرے گھر میں نہیں سیکھی مجھے آپ سے ہزار اختلاف سہی مگر مجھے آپ کے انتقال میں کوئی فوری دلچسپی نہیں ۔ بہرحال مرنے کے بعد بہشت ودوزخ کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن میری دُ عا ہمیشہ یہی رہے گی کہ آپ جہاں رہیں خوش رہیں۔ اب رہا یہ کہ یہ دعا یابدعا اسے کس نے سکھائی تو آ پ کے بیان کے مطابق طوطے نے بچپن سے اب تک صرف دو استادوں کے سامنے زانوئے تلمز تہ کیا ہے۔ آپ کے سامنے اور آپ کی بیگم صاحبہ کے سامنے، میں بی جمالو نہیں بننا چاہتا مگر ظاہر ہے یہ آپ کا گھریلو معاملہ ہے۔ کوئی تیسرا شخص اس میں ملوث نہیں۔ سو اسے بہ خوش اسلوبی سے گھر میں ہی طے کر لیں۔ بظاہر بیگم صاحبہ کا بھی اتنا قصور نہیں جتنا آپ کو پہلے لمحے میں نظر آئے گا۔
بہر حال میں خوش ہوں کہ مجھے جس شخص کی تلاش تھی، وہ مل گیا ہے یعنی طوطے کا مالک اور وہ بلا شب