اردو پیڈ اردو ای میل محفلِ موسیقی بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ سرورق
نئی آمد | تازہ اضافہ | تلاش کریں


سزایہ شاعری،   تحریر: امجد شیخ

شاعری کی ویسے تو کئی اقسام ہوتی ہیں جیسے غزل، نظم ، مرثیہ، رباعی وغیرہ۔ شاعری سنجیدہ ، مزاحیہ اور طنزیہ بھی ہوسکتی ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ" سزایہ" شاعری کیا بلا ہے ؟ کس نے شروع کی ؟ کہاں شروع کی ؟ اس کے مشہورشعرا کون ہیں؟ کس نے اسے اپنا خونِ جگر دے کر پروان چڑھایا؟ وغیرہ وغیرہ۔

آپ کو شاید یہ جان کر بہت مایوسی ہوگی کہ شاعری کی یہ قسم میری اپنی ایجاد کردہ ہے، مگر میں اس شاعری کا بانی نہیں ہوں۔ یہ شاعری تو مجھے گاہے بگاہے اپنی ای میل پر موصول ہوتی رہتی ہے۔ کبھی کبھار شاعر خود ارسال کرتے ہیں، اور کبھی اُن کے بچےّ، بھانجے یا بھتیجے مجھے بھیج دیتے ہیں ۔

میری سزا یہ ہوتی ہے کہ اس شاعری کو مجھے پڑھنا پڑتا ہے، اور پھر پڑھنے کے بعد معذرت کی ای میل بھی لکھنا پڑتی ہے کہ فی الحال ہم اردو شاعری میں اضافہ نہیں کر رہے ، آپ کچھ عرصے کے بعد رابطہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔ بس اسی طرح ایک دن بیٹھے بیٹھے میں نے اس قسم کی شاعری کو" سزایہ" شاعری کا نام دے دیا۔
 
اب بات آپ کی سمجھ میں آ گئی ہوگی کہ، یہ شاعری کی وہ قسم ہے جو دراصل میری سزا ہے اور مجھے سزا کے طور پر روزانہ دو چار بار پڑھنا پڑتی ہے۔
پچھلے کئی سالوں سے میں اکیلا ہی "سزایہ" شاعری پڑھ پڑھ کر سر دھنتا رہا ہوں۔ شاعری میں تو ایک ہی میر و غالب گزرے ہیں۔ مگر میں نے تو ایسےایسے شعرا کی شاعری پڑھی ہے کہ جن کے آگے میر، غالب، اقبال اور فیض بیک وقت پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ غزل کے یہ ڈھائی اشعار بطور نمونہ پیش کیے دیتا ہوں۔

میر و غالب کھودتے تھے کنواں
پانی! اقبال چھان کر لا یا
فیض لے کرگلاس میں آیا
وائے قست!
ہمیں نہ پینا آیا

ذرا غور فرمائیے، اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ ایسے غزلیہ اشعار ( یہاں غزل پر زور ہے) مجھے دن میں کئی بار پڑھنا پڑتے ہیں۔
مگر صاحب، وہ جو کہتے ہیں کہ
لاعلمی ہزار نعمت ہے
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں

کے مصادق۔ میں تو بہت ہی خوش فہمی کا شکار تھا کہ ایسی شاعری سے میں اکیلا ہی چپکے چپکے لطف اندوز ہوتا ہوں، اور اردو شاعری کی اس قسم کو میں نے گھر کی لونڈی بنا کر رکھا ہے۔
ابھی پرسوں کی بات ہے۔ کسی صاحب نے یوٹیوب کی ایک ویڈیو ارسال کی کہ شیخ صاحب اسے دیکھیے۔ میں نے کلک کیاا تو اپنے ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب پی ٹی وی پر اُن کی آمد کا اعلان کر رہے تھے۔ شاعر موصوف تشریف لائے۔ سر پر ٹوپی ، شرعی داڈھی، قومی لباس اور پھر جو اُنہوں نے لہک لہک کر شاعری گانا شروع کی کہ " آگیا مزا میرے رقیبوں کو "۔

پہلے تین مصرعے ہر طرح کے وزن، بحر، قافیے ، ردیف ، خیال اور مضمون کی بندشوںسے آزاد تھے، چوتھا مصرعہ کسی مشہور فلمی گانے کے بولوں پر یا اقبال و فیض کے کسی مشہور مصرعے پر مشتمعل تھا۔ ترنم کے چونے سے قطعے کی عمارت کچھ ایسے کھڑی کی گئی تھی
 جیسے ہمارے ہاں پل بنائے جاتے ہیں۔ ابھی افتتاح کرنے والے گھر نہیں پہنچے ہوتے کہ پل دھڑام سے زمین پر آ گرتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال موصوف کے اشعار کے ساتھ تھی، ایک بار دوبارہ غور سے سُنے اور اشعار گویا دھڑام سے آپ پر ہی آ گرے۔ترنم کی طرزیں بھی کچھ ایسی مشہور تھیں کہ حاضرین کو بھر پور اندازہ تھا کہ تال کہاں دینی ہے۔ اور کتنے ہی جاہل سامعین اپنے ہاتھوں سے یہ فریضہ تالیوں کی صورت انجام دے رہے تھے، بقول اطہر راز کہ

بزمِ ادب میں اب یہ زمانہ بھی آئے گا
شاعر غریب ساتھ میں طبلہ بھی لائے گا

وہ جیسے لہک لہک کر شاعری گاتے ، اور ہاتھ فضا میں بلند کر کے تان لگاتے تھے۔ اسے دیکھتے ہوئے مجھےتو ڈر لگتا تھا کہ وہ ضرور صاحبِ علم ہیں، عین ممکن ہے کہ کچھ جنات ونات بھی اُن کے پرستاروں میں شامل ہوں۔ جنوں کی تو چلو خیر ہے، اگر اُنہوں نے کسی چڑیل کو میرے پیچھے لگا تو پھر کیا ہوگا؟ پیچھے چاہے چڑیل ہی لگی ہو مگر میرے خانگی حالات اِسے بھی افورڈ نہیں کر سکتے۔ اس لیئے میں اُن کا نام لکھنے سے مجبور ہوں۔
بہرحال یہ ویڈیو تو ایک بہانہ تھی ، اس کے بعد جب یوٹیوب پر کچھ مذید غور سے دیکھا تو نئے زمانے کے ایسے "سزایہ" شاعر بکسرت یوٹیوب پر نظر آئے۔ جن کی شاعری انتہائی واہیات مگر اُن کو دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچتی ہے۔
مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس "سزایہ" شاعری کا موجد میں نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے ہی، لاکھوں لوگ اسے ایجاد کر چکے ہیں۔ مجھے گمان ہے کہ جب آپ لوگوں نے اِن شعرا کو دیکھاہو گا، سُنا ہوگا،تو کچھ لوگوں نے بلکل میری طرح ہی محسوس ہوا ہوگا۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اکثریت نے صرف تالی بجانے اور سر دھننے پر اکتفا کیا ہو گا۔
آخر میں  اطہر رازمرحوم کی نظم کا اک شعر

یہ شاعری ہے! گانے بجانے کا فن نہیں
سچ ہے کہ جوش ہے ، جوش ہےمہدی حسن نہیں

(امجد شیخ، گوتھن برگ۔ سویڈن)
 

واپسی

اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ