اردو پیڈ اردوای میل اردو لائف ویڈیو محفلِ موسیقی ادبی افق بات سے بات محفلِ مشاعرہ شاعری تصویری کارڈ فلیش کارڈ عید کارڈ سرورق
 رابطہ کریں تلاش کریں

توجہ فرمائیں

شاعری  کو سننے کے لیئے آپ کے کمپیوٹر پر ریل پلیر انسٹال ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ موجود نہیں ہے تو اسے مفت ڈاون لوڈ کرنے کے لیئے
یہاں  کلک کریں۔

خصوصی ویڈیوز

افتخار نسیم کی یاد میںاضافہ
لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فراز، ڈاکومنٹری
آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب  لے گیا
ظلمت کو ضیا، جالب کی یادگار نظًم
نصرت فتح علی خان کی یاد میں
 

 

 بہترین شاعری

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں
پتھر
جاناں جاناں
خوبصورت موڑ
چاند چہرہ ستارہ آنکھیں
سرِ منبر وہ خابوں کے محل تمیر

کیا آپ جانتے ہیں؟

محفلِ مشاعرہ اب صرف یونی کورڈ میں دستیاب ہوگا، رومن اردو اور تصویری سلسلے کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

جون ایلیا | محفلِ مشاعرہ

محفلِ مشاعرہ
جون ایلیا کا کلام اُن کی اپنی آواز میں
خط ہی کیوں لکھے جائیں؟
ایک گلی تھی جب اُس سے ہم نکلے
چلو بادِ بہاری جا رہی ہے
کبھی جب مدتوں کے بعد اُس کا سامنا ہوگا
میرا اک مشورہ ہے التجا نیں
بے قراری سی بے قراری ہے
وہ طبعیت کا میری تھا ہی نہیں
ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتے
ہے بکھرنے کو یہ محفلِ رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے
رمز
جب تیری جان ہو گئی ہوگی
حالتِ حال کے سبب حالتِ حال ہی گئی
کتنے عیش اُڑاتے ہونگے کتنے اتراتے ہونگے
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
آگے اَسپِ خونی چادر اور خونی پرچم نکلے
جزگماں اور تھا ہی کیا میرا
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں
اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
مہک اٹھا ہے آنگن اس خبر سے
سزا- ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم
روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کا
کسی لباس کی خوشبو جب اُڑ کے آتی ہے
ہم کہ اے دل سخن سراپا تھے
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے
قطعات
یوں تو اپنے قاصدانَ دل کے پاس جانے کس
جو رعنائی نگاہوں کے لیئے فردوسِ جلوہ ہے
قطعات
میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
یہ تیرے خط تیری خوشبو یہ تیرے
کتنے ظالم ہیں جو یہ کہتے ہیں
ہے محبت حیات کی لذت
شرم دہشت ، جھجک پریشانی
سال ہا سال اور اک لمحہ




اپنے احباب کو یہ صفحہ بھیجیں
جملہ حقوق بنام اردو لائف محفوظ ہیں۔ نجی پالیسی ہمارے بارے میں استعمال كی شرا ئیط ہمارا رابطہ